دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 60 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 60

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری۔Yes, they were helpless ہاں وہ مجبور تھے)۔اس پر میں نے دریافت کیا کہ وہ کون سے ہاتھ تھے ؟ اس پر ان کا جواب تھا وہ خفیہ ہاتھ جن کا پتہ ہی نہیں چلتا۔گور نمنٹ کو پتہ ہی نہیں چلا۔“ 60 60 اور پھر انہوں نے اس بات کا اعادہ ان الفاظ میں کیا P۔M۔knew he was helpless(وزیر اعظم کو پتہ تھا کہ وہ مجبور ہے)۔اس کے بعد مبشر حسن صاحب نے کہا کہ انہوں نے اگست 1974ء میں وزیر اعظم بھٹو صاحب کو خط لکھا تھا جس میں ملک میں موجود مختلف حالات کا ذکر کر کے کہا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ مارشل لاء کی صورت میں نکلے گا۔بھٹو صاحب نے اس خط کا جواب نہیں دیا لیکن اس پر انہوں نے لکھا کہ جو کچھ مبشر نے کہا وہ سچ ہے اور پھر تین آدمیوں کو اس خط کی نقول بھجوا دیں۔ایک اور بات کا ذکر کرنا ہو گا کہ بنگلہ دیش کے علاوہ چھ نئے ممالک پہلی مرتبہ اس کا نفرنس میں شامل تھے اور ان سب ممالک کا تعلق افریقہ سے تھا۔اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان چھ میں سے تین ممالک یوگینڈا، گیمبیا اور گنی بساؤ تھے۔بعد میں ان تین ممالک میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں حکومتوں نے انتہائی اقدامات اُٹھائے۔اس کانفرنس میں ایک ہی غیر سرکاری تنظیم کا وفد شامل تھا اور یہ تنظیم رابطہ عالم اسلامی تھی۔اور اس کے سیکریٹری جنرل قزاز صاحب اس کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد اس تنظیم نے ایک کا نفرنس مکہ مکرمہ میں منعقد کی اور اس میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ مسلمان ملکوں میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دینا چاہئے۔اور ان پر پابندیاں لگا دینی چاہئیں۔اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں جب آزاد کشمیر اسمبلی نے جماعت احمدیہ کے خلاف قرار داد منظور کی تو قزاز صاحب نے بھٹو صاحب کو مبارکباد کا پیغام بھجوایا تھا اور لکھا تھا کہ یہ قرارداد اسلامی ممالک کے لئے قابل تقلید ہے۔اس کا نفرنس پر کانفرنس کے سیکریٹری جنرل کے فرائض محمد حسن التہامی صاحب نے سنبھالے تھے۔ان سے قبل یہ فرائض ملیشیا کے تنکو عبد الرحمن سر انجام دے رہے تھے۔اور جب 7 / ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے جماعتِ احمد یہ کے خلاف قرار داد منظور کی تو اس سے چند روز قبل یہ صاحب پاکستان پہنچ گئے تھے اور اس قرار داد کے بعد فورا ہی انہوں نے اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ اب باقی اسلامی ممالک کو بھی اس قرارداد کی پیروی کرنی چاہئے۔