دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 588 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 588

588 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دوسرے روز کے بعد بھی بھٹو صاحب کا بیان دو روز مزید جاری رہا۔21 دسمبر کو بھٹو صاحب نے سپریم کورٹ میں اپنا بیان ختم کیا۔ان دنوں میں بھٹو صاحب اس نازک وقت میں اپنی پارٹی کی کارکردگی سے بھی مایوس ہوتے جا رہے تھے۔ان کی جیل میں متعین کرنل رفیع صاحب تحریر کرتے ہیں۔لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا بھٹو صاحب کچھ مایوس سے ہوتے گئے۔اوائل 1979 ء میں وہ اپنی پارٹی سے جو امیدیں لگائے بیٹھے تھے وہ بر نہیں آ رہی تھیں۔ایک دن وہ کچھ مایوسی کے عالم میں مجھ سے کہنے لگے کہ وہ حرامزادے کدھر ہیں جو کہا کرتے تھے کہ ہم اپنی گردنیں کٹوا دیں گے ( اپنی انگشت شہادت گردن کی ایک طرف سے دوسری طرف کھینچتے ہوئے) میرے خیال میں وہ دن ایسے تھے (فروری مارچ 1979ء) جب بھٹو صاحب اپنی پارٹی سے مایوس ہوتے جا رہے تھے۔“(21) سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پھانسی سپریم کورٹ کی کارروائی ختم ہوئی تو فیصلہ کا انتظار شروع ہوا جو کئی ہفتہ تک طول کھینچ گیا۔بالآ خر 6 فروری 1979ء کو صبح گیارہ بجے کورٹ فیصلہ سنانے کے لئے جمع ہوئی۔سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل مسترد کر دی تھی اور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا۔فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔چار جوں نے پھانسی کی سزا بر قرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، ان کے نام جسٹس انوار الحق (چیف جسٹس ) جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس اکرم اور جسٹس چوہان تھے اور تین جوں یعنی جسٹس صفدر شاہ، جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس نے فیصلہ سے اختلاف کیا تھا۔بھٹو صاحب نے تحمل سے جیل میں فیصلہ کی خبر سنی۔ان کے وکلاء نے ریویو پیٹیشن داخل کی لیکن یہ بھی مسترد ہو گئی۔بیرونی دنیا کے بہت سے لیڈروں نے رحم کی اپیلیں کیں لیکن ان کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور پریس کو بتایا گیا کہ صدر پاکستان جنرل ضیاء نے کیس میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بھٹو صاحب کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کو سزائے موت دے دی جائے گی لیکن فیصلہ کیا گیا کہ 3 اور 4/ اپریل کی درمیانی شب کو بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی جائے گی۔فیصلہ آنے کے بعد جیل کے حکام کا رویہ بھٹو صاحب سے بہت بدل گیا تھا اور وہ بار بار اس بات کی شکایت کرتے تھے کہ وہ ان سے بے عزتی کا برتاؤ کر