دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 587
587 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بھٹو صاحب نے عدالت میں اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مجھے نام کا مسلمان قرار دیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ جناب والا اگر آپ نام کے مسلمان کے مسئلے پر جاتے ہیں تو پھر میں ایک ایسا شہری ہوں جس کا کوئی ملک نہیں کیونکہ یہ شہریت دستور میں ایک مسلمان یا اقلیتوں کو فراہم کی گئی ہے۔یہ شہریت اس جانور کو نہیں دی جا سکتی جو نام کا مسلمان ہو۔میں نہیں جانتا اور کتنے لوگوں کو اس درجہ بندی میں شامل کر کے انہیں بے ملک بنا دیا جائے گا اور اگر ہم بے ملک لوگ بنا دیئے گئے تو ہم کہاں جائیں گے۔(18) بہت خوب۔بہت موئثر انداز بیان ہے بہت مضبوط دلائل ہیں۔لیکن یہاں پر ایک سوال اُٹھتا ہے۔وہ جماعت جو کہ کلمہ گو ہے اور اور اس کا عقیدہ ہے کہ وہ مسلمان ہے۔اور وہ کسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ایک روز ڈیڑھ سو کے قریب سیاستدان بیٹھتے ہیں اور یہ مضحکہ خیز فیصلہ کرتے ہیں کہ اب سے قانون کی رو سے یہ جماعت مسلمان نہیں ہے۔بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ اس ملک کے آئین میں شہریت کے حقوق یا مسلمان کے لئے ہیں یا پھر غیر مسلم کے لئے تو پھر کیا ۱۹۷۴ء کا فیصلہ کرنے سے پہلے انہوں نے سوچا تھا کہ یہ جماعت اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں سمجھتی ایسا کہنا یا سمجھنا اس کے ضمیر کے خلاف ہے، اس کے بنیادی عقیدہ کے خلاف ہے تو پھر اس کی شہریت کے حقوق کا کیا بنے گا۔ایک نامعقول فیصلے نے خود آپ کے بیان کردہ معیار کے مطابق ان کو شہریت کے حقوق سے محروم کر دیا۔1974ء میں اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے جماعت احمدیہ نے ایک محضر نامہ میں اپنا موقف بیان کیا تھا۔اور اس میں کرتا دھر تا افراد کو ان الفاظ میں متنبہ کیا تھا ”ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا صورتیں عقلاً قابل قبول نہیں ہو سکتیں اور بشمول پاکستان دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کی راہ کھولنے کا موجب ہو جائیں گی۔“(19) اور یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا جو آگ 1974ء میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف بھڑکائی گئی تھی ، اس وقت کے وزیر اعظم کا آشیانہ بھی بالآخر ان کے شعلوں کی نذر ہو گیا۔