دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 580 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 580

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 580 ہائی کورٹ کا فیصلہ ނ بہر حال اب فیصلہ کا وقت قریب آ رہا تھا۔ہائی کورٹ نے 18 / مارچ 1978ء کو فیصلہ سنانا تھا۔فیصلہ قبل بھاری پیمانے پر پیپلز پارٹی کے کارکنان کی گرفتاریاں شروع ہو چکی تھی۔بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر پولیس گشت کر رہی تھی۔فیصلہ سنایا گیا فیصلہ متفقہ تھا۔ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو سزائے موت سنائی۔اور سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے صرف سات روز دیئے گئے تھے۔تفصیلی فیصلہ جسٹس آفتاب نے لکھا تھا جو جماعت اسلامی کے ہمدرد سمجھے جاتے تھے۔اس تفصیلی فیصلہ کا ایک متنازع حصہ جس پر بھٹو صاحب کو بھی بہت اعتراض تھا اس میں بھٹو صاحب کے بارے میں یہ تبصرہ کیا گیا تھا:۔"It is, as is clear from the oath of the Prime Minister as prescribed in the constituition, a constituitional requirement that the Prime Minister of Pakistan must be a Muslim and a believer inter alia in the total requirement and teachings of the Holy Quran and the Sunnah۔He could not be a Muslim only in name who with impunity his oath without caring for ugly consequences" may flout یعنی آئین میں وزیر اعظم کے لئے مقرر کردہ حلف نامے سے یہ واضح ہے کہ وزیر اعظم کو مسلمان ہونا چاہئے اور اسے قرآن اور سنت کے تمام تقاضوں اور تعلیمات پر یقین رکھنا چاہئے نہ کہ ایسا شخص جو کہ صرف نام کا مسلمان ہو اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنے حلف کی توہین کرتا پھرے۔(3) جب 1973ء کے آئین میں یہ عجیب قسم کے حلف نامے رکھے گئے تو گزشتہ دساتیر کی نسبت ان کو مختلف اس لئے رکھا گیا تھا کہ کہیں کوئی احمدی ان عہدوں پر مقرر نہ ہو سکے اور اس طرح مولویوں کو اور ان کے پیچھے کام کرنے والے ہاتھوں کو خوش کیا گیا تھا لیکن اب انہیں حلف ناموں کی بنیاد پر اس آئین کے بنانے والے کے خلاف فیصلہ سنایا جا رہا تھا۔