دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 577
577 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جن میں سے ایک جسٹس آفتاب بھی تھے۔جسٹس آفتاب جماعت اسلامی سے روابط رکھتے تھے۔جن جج صاحب نے بھٹو صاحب کی ضمانت کی درخواست منظور کی تھی انہیں اس بنچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔بھٹو صاحب پر فرد جرم لگائی گئی اور انہوں نے Plead کیا کہ وہ not guilty ہیں۔اس پر کارروائی شروع ہوئی۔پہلے احمد رضا قصوری صاحب نے کئی دن گواہی دی کہ ان کے بھٹو صاحب سے اختلافات کیسے شروع ہوئے اور کس طرح بھٹو صاحب نے ان کو قومی اسمبلی میں دھمکی دی۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی میں دوبارہ شامل ہو گئے اور ان کو تعریفی خطوط بھی لکھتے رہے کیونکہ وہ اپنی جان بچانا چاہتے تھے۔پھر مسعود محمود صاحب نے نو دن میں اپنی گواہی مکمل کی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھٹو صاحب نے انہیں مجبور کیا تھا کہ وہ ڈائریکٹر انٹیلی جنس فیڈرل سیکیورٹی فورس کو حکم دیں کہ وہ اپنے کارندوں کے ذریعہ احمد رضا قصوری صاحب کو قتل کرائیں۔اس کے بعد فیڈرل سیکیورٹی فورس کے دیگر کارندوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔بھٹو صاحب کے وکیل کو شکایت تھی کہ جج صاحبان کی تمام پابندیاں ان کے لئے اور ان کے مددگار وکلاء کے لئے ہیں۔بھٹو صاحب اس دوران بیمار ہو گئے انہیں ملیریا اور انفلوائنزا ہو گیا تھا۔تین دن کے توقف کے بعد ان کے بغیر ہی کارروائی جاری رہی۔دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو ایک مرحلہ پر بھٹو صاحب اور جج صاحبان میں تلخ کلامی گئی۔بھٹو صاحب نے اس دوران کہا کہ وہ حج صاحبان کا توہین آمیز رویہ کافی برداشت کر چکے ہیں۔چیف جسٹس مولوی مشتاق صاحب نے پولیس کو کہا کہ اس شخص کو لے جاؤ جب تک اس کے ہوش و حواس بجا نہ ہو جائیں۔18 / دسمبر کو بھٹو صاحب نے درخواست دی کہ ان کے مقدمہ کو کسی اور بینچ کی طرف منتقل کیا جائے۔لیکن یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔اب تلخی اتنی بڑھ گئی تھی کہ بھٹو صاحب کے وکیل اعوان صاحب نے عدالت کو مخاطب کر کے کہا کہ ان کے موکل نے ان کا وکالت نامہ منسوخ کر دیا ہے اور اپنے آپ کو عدالت کی کارروائی سے لا تعلق کر لیا ہے۔اس سے عدالت کے غصہ میں اضافہ ہو گیا۔بھٹو صاحب کی طرف سے گواہوں پر جرح بھی بند کر دی گئی۔لیکن بھٹو صاحب کے پاس ایک موقع آنا تھا جب انہیں اپنے دفاع میں بولنے کا موقع ملنا تھا۔یعنی جب عد عدالت میں ان کا بیان لیا جانے کا وقت آئے گا۔جب 24 / جنوری 1978ء کو بھٹو صاحب کے بیان کا پہلا دن آیا اور بھٹو صاحب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ہو