دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 568 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 568

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 568 نہیں ملتا کہ اس دربار میں قوم اور ملک یا دہلی کے مستقبل کی بات بھی ہوتی تھی البتہ بہادر شاہ ظفر کے دستر۔خوان کی لمبی فہرست بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہے۔ایسی بزم بالآخر ”بزم آخر “ ہی ثابت ہوتی ہے۔حکومت کے ایوانوں میں تو یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اور آئین میں کر کے وہ کتنے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں اور دوسری طرف جماعت احمدیہ کا ردِ عمل کیا تھا، اس کا اظہار حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس گفتگو سے صرف دو روز قبل پہلے خطبہ جمعہ میں ان الفاظ میں فرمایا تھا:۔”باقی جہاں تک کسی کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کا سوال ہے یہ تو میں شروع سے کہہ رہا ہوں اس قرارداد سے بھی بہت پہلے سے کہتا چلا آیا ہوں کہ جس شخص نے اپنا اسلام لاہور کی مال (روڈ) کی دوکان سے خریدا ہو ، وہ تو ضائع ہو جائے گا لیکن میں اور تم جنہیں خدا خود اپنے منہ سے کہتا ہے کہ تم (مومن) مسلمان ہو تو پھر ہمیں کیا فکر ہے۔دنیا جو مرضی کہتی رے تمہیں فکر ہی کوئی نہیں۔" (خطبات ناصر جلد پنجم ص 641) بہت سی وجوہات پر 1974ء میں قبل از وقت انتخابات تو نہیں کرائے گئے مگر 1977ء میں وقت سے کچھ عرصہ قبل انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔انتخابات کا اعلان کرنے سے قبل بھٹو صاحب نے کچھ زرعی اصطلاحات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔نہری اراضی کے لئے زیادہ سے زیادہ ملکیت کی حد 150 ایکڑ سے کم کر کے 100 ایکڑ اور بارانی اراضی کی زرعی زمین کے لئے زیادہ سے زیادہ ملکیت کی حد 300 ایکڑ سے کم کر کے 200 ایکڑ کر دی گئی۔ان کے ایک قریبی معتمد اور وفاقی وزیر اور ان کی انتخابی مہم کے نگران رفیع رضا صاحب لکھتے ہیں۔“ZAB(Zulfikar Ali Bhutto )thought this would surprise the leftist in the PPP; having outflanked the rightist parties on the Qadiani issue, he now wanted to do the same to the left۔” ترجمہ : ذوالفقار علی بھٹو کا خیال تھا کہ یہ قدم پی پی پی میں بائیں بازو کے لوگوں کو حیران کر دے گاوہ قادیانی مسئلہ پر دائیں بازو کی جماعتوں کو مات دے چکے تھے اب وہ بائیں بازو کو بھی مات دینا چاہتے تھے۔(2)