دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 567 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 567

567 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری وو۔۔15/ ستمبر کی اُس رات جب بھٹو صاحب نے مجھ سے میرا خیال پوچھا تو میں نے اس وقت کی ملکی جذباتی فضا کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی انہیں پھر انتخابات کے انعقاد کا مشورہ دیا۔مسٹر بھٹو احمدی مسئلہ پر قومی اسمبلی کا فیصلہ کرانے کے بعد انتخابات کے نقطہ نظر ہی سے سوچ رہے تھے۔“ (1) اب ہم اس مرحلہ پر ٹھہر کر جائزہ لیتے ہیں کہ 1974ء میں آئینی ترمیم کرنے کے بعد حکمران سیاستدان کس نفسیات سے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔کچھ روز پہلے ہی آئین میں ایک انوکھی ترمیم کی گئی تھی۔جس کے نتیجہ میں اسمبلی نے بزعم خود یہ اختیار لے لیا تھا کہ وہ یہ تعین کرے کہ کس گروہ کا مذہب کیا ہو۔اس ترمیم کے نتیجہ میں بہت سے بھیانک مضمرات سامنے آ سکتے تھے اور ملک میں تنگ نظری اور مذہبی تعصب کا ایک نیا باب کھل سکتا تھا۔مستقبل میں بہت سے آئینی اور قانونی مسائل سر اُٹھا سکتے تھے۔اور ایسا ہوا بھی اور یہ عمل تک جاری ہے۔انہی غلطیوں کی وجہ سے ملک ایک تاریک گڑھے میں گرتا جا رہا ہے۔ملک کا امن و امان برباد ہو چکا ہے۔لیکن اس وقت کے حکمرانوں کو اگر کوئی فکر لاحق تھی تو صرف یہ کہ ان کے ووٹوں پر کیا اثر پڑے گا۔اس نام نہاد کارنامے کا کریڈٹ کسے کتنا مل رہا ہے۔یہ فیصلہ اچھا تھا کہ برا ،اس بحث کو تو رہنے دیں لیکن اس کا ملک پر بھی تو کوئی اچھا برا اثر پڑنا تھا۔ان بالا ایوانوں میں یہ سوچنے کی زحمت کوئی نہیں کر رہا تھا۔اتنی دور کی کون سوچتا اور ملک کی فکر کس کو تھی۔یونین کونسل کے امیدواروں کی طرح صرف یہ فکر کی جا رہی تھی کہ اوہو کہیں مخالف اُس کا سہرا اپنے سر نہ باندھ لے۔دور بینی کے دعووں کے باجود ان کی دور کی نظر کمزور ہو چکی تھی اور کوثر نیازی صاحب کو یہ تو یاد رہ گیا کہ اس رات بھٹو صاحب کی پلیٹ میں بھنا ہوا قیمہ پڑا ہوا تھا لیکن یہ ذکر انہوں نے نہیں کیا کہ ان فسادات میں کتنی بے رحمی سے احمدیوں کو شہید کیا گیا تھا۔باپوں نے بیٹے کو شہید ہوتے دیکھا۔بے بس بیٹیوں نے باپوں کو ظلم کی بھینٹ چڑھتے دیکھا اور انہیں تنہا اپنے باپ کی لاش اُٹھانی پڑی۔ان کے گھروں اور دوکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔۔مریضوں کو دوائیاں بھی نہ مل سکیں۔معصوم بچے مر گئے تو تدفین بھی نہ ہونے دی۔سوشل اور اقتصادی بائیکاٹ کیا گیا۔لیکن یاد رہا تو کیا ؟ کہ بھٹو صاحب کی پلیٹ میں قیمہ پڑا ہوا تھا اور کوثر نیازی صاحب کو تو قیمے کی مقدار بھی یاد رہ گئی۔اس محفل کی روئیداد سن کر تو بہادر شاہ ظفر کے دربار کی حالت یاد آجاتی ہے جس کا نقشہ کتاب بزم آخر میں کھینچا گیا ہے۔اس میں یہ ذکر تو