دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 547 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 547

547 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ فیصلہ تو اس کارروائی کے آغاز سے قبل ہی ہو چکا تھا(5)۔جماعت کے مخالف مولوی حضرات جلسہ کر کے یہ اعلان کر رہے تھے کہ یہ آخری موقع ہے کہ مرزائیت کے فتنہ کو حل کر دیا جاۓ۔چنانچہ 2 ستمبر کو لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔اس میں مودودی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیت کے فتنے کو ختم کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔اگر ہم نے اسے کھو دیا تو ممکن ہے کہ یہ فتنہ ہمیں لے ڈوبے۔نورانی صاحب نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق نہ ہوا تو مسلمان اسے قبول نہیں کریں گے۔عبدالستار نیازی صاحب جو کہ 1953ء کے فسادات میں داڑھی منڈوا کر بھاگے تھے نے اس جلسہ میں کہا کہ اگر یہ مسئلہ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق حل نہ کیا گیا تو مسلمان اسے خود حل کر لیں گے۔مودودی صاحب ابھی سے احمدیوں کے بارے میں نئے مطالبات کر رہے تھے۔ان میں سے ایک مطالبہ گے۔مودودی یہ تھا کہ احمدی افراد کو کلیدی اسامیوں سے علیحدہ کیا جائے۔پاسپورٹ میں ان کے مذہب کا علیحدہ اندراج کیا جائے۔ووٹر لسٹ میں ان کا اندراج علیحدہ کیا جائے۔شناختی کارڈوں میں بھی احمدیوں کے متعلق علیحدہ اندراج کیا جائے۔ربوہ کی زمین جن شرائط پر دی گئی تھی ان کو تبدیل کیا جائے۔ان سے یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم قرار دے کر بھی ان انتہاء پسند مولویوں کی تسلی نہیں ہو گی بلکہ احمدیوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔اور اس کی بنیاد پر اپنی سیاسی دوکان چمکائی جائے گی (7،6)۔ایک طرف تو قومی اسمبلی کے اراکین اور سپیکر صاحب اس بات کو بار بار یقینی بنانے کے لیے تاکید کر رہے تھے کہ اس کارروائی کو خفیہ رکھا جائے اور اسمبلی کے باہر اس بات کا تذکرہ تک نہ ہو کہ اندر کیا کارروائی ہوئی تھی اور دوسری طرف اسمبلی کے بعض مولوی حضرات اپنی کار کردگی پر جھوٹی تعلیاں کر رہے تھے۔چنانچہ ان ہی دنوں میں نورانی صاحب نے سرگودھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا ناصر احمد ہمارے سوالات سے اس قدر بوکھلا اُٹھے کہ وہ یہ کہتے سنے گئے کہ میں تنگ آ چکا ہوں۔سوالات کا یہ سلسلہ کب ختم ہو گا۔ان کی یہ ڈینگ کس قدر دور از حقیقت ہے اس کا اندازہ کارروائی کے اس خلاصہ سے ہی ہو جاتا ہے جو ہم نے درج کیا ہے۔یہ سب مولوی حضرات اس قسم کی ڈینگیں تو مارتے رہے لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ یہ مطالبہ کرے کہ کارروائی کو شائع کیا جائے تاکہ دنیا بھی دیکھے کہ انہوں نے کیسی فتح پائی