دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 529
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 529 اُٹھانا چاہئیے تھا تاکہ جو غلطی تھی وہ دور کر دی جائے لیکن دو ہفتہ وہ غیر متعلقہ بحث چلانے کے بعد کہہ رہے تھے کہ شروع ہی سے اس کمیٹی کے اغراض و مقاصد ٹھیک طے نہیں ہوئے تھے۔پھر انہوں نے یہ نکتہ بیان کیا کہ اگر یہ طے کیا جائے کہ جو آنحضرت صلی اللہ نیلم کی ختم نبوت پر ایمان نہیں لاتا وہ غیر مسلم ہے تو پھر اس کا اسلام میں کوئی Status ہی نہیں۔الفاظ یہ ہونے چاہیئے تھے In reference to Islam۔وزیر قانون کی پیش کرده Motion کو Contradictory قرار دینے کے بعد وہ اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد کی طرف متوجہ ہوئے۔انہوں نے کہا:۔Again, Sir, with all respect, the resolution moved by thirty seven members,is in۔۔۔۔۔۔my opinion, in some parts contradictory یعنی سینتیس ممبران نے جو قرارداد پیش کی ہے اس کے بھی بعض حصے متضاد ہیں۔اگر یہ دونوں قرار دادیں ہی اندرونی تضاد کا شکار تھیں تو اتنے روز قومی اسمبلی کے سارے اراکین کیا کرتے رہے تھے؟ یہ ساری کارروائی غیر متعلقہ ہی نہیں بلکہ لایعنی بھی تھی۔اپوزیشن کے بارے میں اٹارنی جنرل صاحب کا نکتہ یہ تھا کہ ایک طرف تو اس قرارداد میں لکھا ہے کہ قادیانیت ایک Subversive یعنی تخریب کار تحریک ہے اور اگر پھر ان کو علیحدہ مذہب کی حیثیت دی جائے تو پھر ان کے حقوق محفوظ کرنے ہوں گے اس طرح آپ تخریب کاری کو تحفظ دے رہے ہوں گے اور آپ کو ان کو اپنے مذہب کو Profess, Practice اور Propagate کرنے کی اجازت دینی ہوگی۔اصل بات یہ تھی کہ اصل میں احمدیوں کے تمام حقوق سلب کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی جیسا کہ بعد میں 1984ء کے آرڈیننس کے نتیجے میں احمدی مسلمانوں سے مذہب کو Profess, Practice اور Propagate کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے مزید موضوع سے بھٹکنا شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ ”منیر انکوائری رپورٹ “ میں لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد (علیہ السلام ) مرزا غلام مرتضیٰ کے پوتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ صحیح نہیں ہے میرے خیال میں وہ ان کے بیٹے تھے۔اب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے