دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 528
528 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جانبداری نظر نہیں آتی، صرف بغض اور تعصب کا اظہار نظر آتا ہے۔خود اٹارنی جنرل صاحب نے دعویٰ کیا کہ وہ جو حوالے پیش کر رہے ہیں وہ ان کے سامنے موجود ہیں لیکن جب بھی حوالہ غلط ثابت ہوا وہ پیش کردہ حوالے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ اس تقریر کے دوران جو کہ 5 اور 6 ستمبر کو کی گئی وہ کتنے غیر جانبدار رہے اور کتنی دیانتداری کا مظاہرہ کیا گیا۔جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ جب قومی اسمبلی ایک سپیشل کمیٹی قائم کرتی ہے تو یہ سپیشل کمیٹی وہ کام کرنے کی پابند ہوتی ہے جو اس کے سپرد کیا جائے وہ اس کام کو کرنے کے بعد وہ اس سے تعلق رکھنے والے کچھ امور پر بھی بحث کر سکتی ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس سپیشل کمیٹی کے سپر د کام پڑھ کر سنایا اور وہ یہ تھا:۔To discuss the question of the status in Islam of the persons who do not believe in the finality of Prophethood of Muhammad (Peace be upon him) یعنی ان اشخاص کی اسلام میں کیا حیثیت ہے جو حضرت محمد مصطفے صلی الم کی ختم نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔سوال یہ ہے کہ یہ پڑھتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کو یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ وہ گیارہ دن جماعتِ احمدیہ کے وفد سے جو سوالات کرتے رہے تھے ان میں سے نوے فیصد سے زائد سوالات کا مذکورہ مقصد سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔جب کبھی قسمت سے گفتگو اس موضوع کے قریب آنے لگی تو اٹارنی جنرل صاحب نے سوالات کا رخ کسی اور طرف کر دیا۔اس کے بعد یحیی بختیار صاحب نے وہ قرارداد پڑھ کر سنائی جو کہ اپوزیشن کے 37 اراکین کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے جو کچھ کہا وہ حیران کن تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیر قانون کی قرارداد کے نتیجے میں اس سپیشل کمیٹی کے جو اغراض و مقاصد طے ہوئے تھے وہ درست نہیں تھے۔انہوں نے کہا:۔The motion is a contradiction in terms یعنی اس قرارداد میں جس میں اس سپیشل کمیٹی کے اغراض و مقاصد بیان کئے گئے تھے تضاد تھا۔اگر اس سپیشل کمیٹی کے اغراض و مقاصد ہی ٹھیک طے نہیں ہوئے تھے تو اٹارنی جنرل صاحب کو یہ سوال شروع میں