دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 527 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 527

527 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اٹارنی جنرل صاحب بحث سمیٹتے ہیں ہم جائزہ لے چکے ہیں کہ جب جماعت کے وفد سے سوالات کئے گئے تو کیا بیتی۔پھر دو روز غیر مبائع احمدی احباب کے وفد سے سوالات کئے گئے۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کے مخالف ممبران کی طویل تقریروں کا سلسلہ چلا۔بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جب جماعت احمدیہ کے وفد پر گیارہ روز سوالات کئے گئے تو مطلوبہ نتائج نہیں نکل سکے۔ہم اس کا تفصیلی جائزہ پیش کر چکے ہیں۔ہر پڑھنے والا اپنی رائے خود قائم کر سکتا ہے۔اب اس وقت جب کہ جماعت کا وفد موجود نہ ہو دل بھر کے زہر فشانی کر کے دل کی بھڑاس نکالی جا رہی تھی تاکہ جب یہ حضرات غلط یا خود ساختہ حوالہ پیش کریں تو کوئی یہ کہنے والا نہ ہو کہ تو غلط بیانی کی جا رہی ہے، جب نامکمل عبارت پیش کر کے غلط تاثر پیش کرنے کی کوشش کی جائے تو کوئی مکمل عبارت پڑھنے والا نہ ہو اور جب غلط تاریخی حقائق پیش کئے جائیں تو کوئی تصحیح کرنے والا نہ ہو۔ورنہ شاید اتنی طویل تقاریر کی ضرورت نہ ہوتی۔چونکہ ان تقاریر میں تقریباً انہی نکات کا اعادہ تھا جن کا ہم جائزہ لے چکے ہیں، اس لئے اب اس کتاب میں علیحدہ ان نکات کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔البتہ اٹارنی جنرل صاحب کی آخری تقریر کے چند نکات کا جائزہ پیش کرنا ضروری ہے کیونکہ آخر میں اٹارنی جنرل صاحب نے بحث کو سمیٹا تھا اور ساری کارروائی کا خلاصہ پیش کیا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے آغاز کے رسمی جملوں میں کہا کہ وہ بالکل غیر جانبدار ہو کر اپنا تجزیہ پیش کریں گے تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی پوزیشن کا غلط فائدہ اُٹھا کر غلط طریق پر ممبران پر اثر انداز ہوئے تھے۔اس بات سے سب اتفاق کریں گے کہ نہ صرف اس تقریر کے دوران بلکہ تمام کارروائی کے دوران مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ ہونا چاہیے تھا لیکن اب تک ہم کیا منظر دیکھتے رہے۔غلط حوالے پیش کئے گئے یہاں تک کہ جعلی فوٹو سٹیٹ کاپی بنا کر پیش کی گئی لیکن کوئی وضاحت نہیں پیش کی گئی کہ کون ذمہ دار تھا؟ کس ممبر نے اُٹھ کر مذمت کی کہ یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں۔اس کارروائی کے دوران کسی قسم کی غیر