دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 51 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 51

51 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس 1973ء کے جلسہ سالانہ پر صد سالہ جوبلی کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے مسلمانوں کے تمام فرقوں کو اتحادِ عمل کی دعوت دی تھی اور فرمایا تھا کہ تمام فرقوں کو دنیا میں قرآن کریم اور رسول اللہ کی عظمت کے اظہار کے لیے کام کرنا چاہئے۔اس سے قبل 19 / اکتوبر 1973ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے عالم اسلام کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ "پس حکومت وقت یا دوسری اقوام عالم جن کا تعلق اسلام سے ہے ان کا یہ کام ہے (ہر فرد اگر اپنے طور پر اس قسم کے منصوبے بنائے تو فائدہ کی بجائے نقصان ہوا کرتا ہے ) کہ وہ سر جوڑیں اور منصوبے بنائیں اور پھر ہر اسلامی ملک کی ذمہ داریوں کی تعیین کریں مثلاً کہیں کہ فلاں ملک اس مہم اور مجاہدے میں یہ یہ خدمات اور قربانیاں پیش کرے یا اس قسم کا ایثار اور قربانی سامنے آنی چاہئے۔جب سارے اسلامی ممالک کسی منصوبے کے ماتحت اسلام کے دشمن کو جو اپنے ہزار اختلافات کے با وجود اکٹھا ہو گیا ہے اس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ایک جد وجہد ، ایک عظیم جہاد اور مجاہدے کا اعلان کریں گے پھر دیکھیں گے کہ کون اس میدان میں آگے نکلتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور ایک ہزار کی نسبت سے آگے نکل جائیں گے بلکہ ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ آگے نکلنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔“ (خطبات ناصر جلد پنجم ص262) اور اسی خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا تھا، پاکستان کی حکومت ملک کی خاطر جو بھی قربانی مانگے گی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی سب سے بڑھ کر قربانیاں پیش کریں گے۔اس پس منظر میں جب کہ جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت کی ایک مہم چلائی جارہی تھی، حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ المسیح الثالث پوری دنیا کے مسلمانوں کو محبت کا پیغام دے رہے تھے، مشتر کہ طور پر اسلام کی خاطر قربانیاں کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔فروری 1974ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہورہی تھی۔اور مسلمان ممالک کے سربراہان نے اس کا نفرنس میں شرکت کرنی تھی۔اس کا نفرنس سے بہت سی توقعات وابستہ کی جارہی تھیں کہ اس میں عالم