دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 516
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری (3) غیر متعلقہ سولات م الله سة 516 جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ راہبر کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پوری قومی اسمبلی پر مشتمل ایک سپیشل کمیٹی سپیکر کی صدارت میں کارروائی شروع کرے گی اور یہ فیصلہ کرے گی کہ جو شخص آنحضرت صلی نیلم کو آخری نبی نہیں مانتا اس کا اسلام میں Status کیا ہے؟ لیکن ساری کارروائی سے گزر جائیں اس موضوع پر سوالات ہوئے ہی نہیں۔جب بھی گفتگو اس موضوع کے قریب آنے لگتی تو پھر سوال کرنے والے گریز کا راستہ اختیار کر لیتے۔اب اس بات کا کہ احمدیوں کی آبادی پاکستان میں کتنی ہے، پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر قادیان میں چراغاں ہوا تھا کہ نہیں۔باؤنڈری کمیشن میں جماعت کا موقف کیا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کس بیماری سے ہوئی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کون سے جلسے میں پولیس موجود تھی کہ نہیں تھی۔ان سب باتوں کا مسئلہ ختم نبوت سے کیا تعلق تھا۔ان جیسے سوالات کا زیر بحث موضوع سے کوئی تعلق بنتا ہی نہیں۔یہ تو پوچھا ہی نہیں گیا کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی للی نام کے بعد امتی نبی کی آمد کا قائل ہے تو کیا اس بنا پر اس شخص کو غیر مسلم کہا جا سکتا ہے کہ نہیں ؟ ساری کارروائی غیر متعلقہ سوالات اور غلط حوالوں کے گرد گھومتی رہی تھی۔آخر یہ سوال تو لازماً اُٹھتا ہے کہ اصل موضوع سے گریز کیوں کیا گیا؟ اس کی بظاہر وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ جب جماعتِ احمدیہ کے محضر نامے کو دیکھا گیا اور مولوی حضرات کے پیش کردہ موقف بھی پڑھے گئے تو فیصلہ یہی کیا گیا کہ اصل موضوع کو نہ چھیڑنے میں ہی ہماری عافیت ہے اور تو کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔چنانچہ اتنے دن بند دروازوں کے پیچھے غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کر کے خفت سے بچنے کی کوشش کی گئی اور پھر اس کارروائی کو شائع بھی نہیں ہونے دیا کہ اس کارروائی کو چلانے والوں کی علمی قابلیت کا راز فاش نہ ہو جائے۔اگر اصل موضوع پر بھی سوالات کا سلسلہ چلتا اور کچھ غیر متعلقہ سوالات بھی ہو جاتے تو یہ بات پھر بھی کچھ قابل در گزر ہوتی۔لیکن یہاں تو عملاً یہ ہوا کہ ساری کارروائی ہی غیر متعلقہ موضوعات پر ہوتی رہی۔ہم نے