دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 512 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 512

512 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہم نے حیران ہو کر پھر یہ سوال دہرایا کہ کیا سپیکر نے حوالہ جات کے بارے میں تنبیہ نہیں کی تھی۔اس پر انہوں نے پھر کہا:۔”بالکل نہیں۔میں بتا رہا ہوں کہ Original کتابیں وہاں موجود تھیں۔پھر سه باره سوال پر بھی انہوں نے انکار کیا کہ کوئی حوالہ غلط نہیں نکلا۔66 ہم نے ساری کارروائی کا جائزہ لے لیا اور اس میں حوالوں کی جو حالت تھی اس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔اب ہم پروفیسر غفور صاحب کے اس دعویٰ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں تین صورتوں میں سے ایک کو تسلیم کرنا پڑتا ہے 1)۔ایک تو یہ کہ پروفیسر غفور صاحب ساری کارروائی سے غیر حاضر رہے لیکن یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کارروائی میں ان کی شرکت کا ثبوت بہر حال موجود ہے۔2)۔یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ جسمانی طور پر تو وہاں پر موجود تھے لیکن ذہنی طور پر وہاں سے مکمل طور پر غیر حاضر تھے۔3۔تیسری صورت یہی ہو سکتی ہے کہ پہلے تو یہ کوشش کی گئی کہ جماعت احمدیہ کے وفد سے یہ بات نکلوائی جائے کہ احمدی باقی فرقوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں لیکن جب اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو کارروائی کو شائع ہونے سے روک دیا گیا اور اس غلط بیانی سے کام لیا گیا کہ دراصل احمدیوں نے باقی فرقوں کو غیر مسلم کہا تھا اس لئے ہم اس بات پر مجبور ہوئے کہ انہیں غیر مسلم قرار دیں اور پاکستانی قوم کو دھوکا دیا گیا اور انہیں مسلسل جھوٹ سنایا گیا یعنی آخر میں وہی بات آجاتی ہے جو مبشر حسن صاحب نے فرمائی تھی کہ اس قوم کا کوئی حق نہیں۔اس قوم کا بس یہی حق ہے کہ وہ غلامی کرے۔ہم اس کا ذکر کچھ ٹھہر کر کریں گے لیکن پروفیسر غفور صاحب کی یہ بات بالکل غلط نکلی کہ ان حوالوں کو کبھی چیلنج ہی نہیں کیا گیا۔جماعت احمدیہ کے وفد کی طرف سے بار بار یہ