دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 506 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 506

506 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کے بعد ظفر انصاری صاحب کچھ اور ایسے اعتراضات پیش کرتے رہے جو کہ ایک عرصہ سے جماعت احمدیہ کے مخالفین کر رہے تھے۔مثلاً یہ کہ کیا احمدی حج کا مقام اپنے جلسہ سالانہ کو دیتے ہیں،اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ احمدیوں کے نزدیک حج ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے۔پھر یہ عجیب اعتراض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بیت الذکر اور بیت الفکر کے متعلق یہ الہام ہوا تھا کہ جو اس میں داخل ہو گا وہ امن میں آ جائے گا۔جب کہ مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ امن کا مقام ہے اور یہ مقام مکہ مکرمہ کو حاصل ہے۔اس کے جواب میں حضور ” نے فرمایا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ رسولِ کریم کی بعثت صرف اس لیے تھی کہ صرف ایک چھوٹی سی جگہ کو امن کا مقام بنا دیا جائے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ مکہ تو صرف ایک Symbol ہے اور وہ ایک نمونہ ہے اور ہمیں حکم ہے کہ جگہ جگہ وہ مقامات بناؤ جہاں پر داخل ہونے والے امن میں آجائیں۔لیکن اب یہ تھا کہ جب حضور اس کا جواب دے دیتے تو سپیکر صاحب فوراً اگلا سوال پوچھنے کا کہتے اور مجبوراً مولوی صاحب کو آگے چلنا پڑتا۔جب اٹارنی جنرل صاحب کی جگہ مولوی صاحب کو سوالات کے لیے سامنے لایا گیا تو وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب چونکہ عربی صحیح نہیں بول سکتے اس لیے کچھ سوالات مولوی صاحب پیش کریں گے لیکن حقیقت یہ تھی کہ مولوی صاحب اکثر سوالات وہ کر رہے تھے جن میں عربی بولنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔مشہور ہے کہ مخالفین کو یہ شک ہو گیا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب سوالات سے جماعت کو مطلع کر دیتے ہیں، اسی لئے حضرت خلیفة المسیح الثالث فوراً سوال کا جواب دے دیتے ہیں۔اس لیے اپنی طرف سے مخالفین نے یہ چال چلی تھی کہ اب ان میں سے کوئی براہ راست یہ سوالات کرے۔لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جو سوالات اب کیے جا رہے تھے ان میں سے اکثر کے متعلق لکھا ہوا مواد جماعت کے وفد کے پاس موجود تھا اس لیے مولوی صاحب کو پاؤں جمانے کا موقع بھی میسر نہیں آ رہا تھا۔