دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 507 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 507

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 507 اس مرحلہ پر سپیکر صاحب نے جماعت کے وفد کو کہا کہ وہ کمیٹی روم میں دس منٹ انتظار کریں اور کارروائی لکھنے والوں کو بھی باہر جانے کا کہا۔اس دوران کارروائی لکھی نہیں گئی۔اس لیے خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس دوران کیا بات ہوئی۔جب دس منٹ کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو مولوی ظفر انصاری صاحب نے ایک مختصر سوال یہ کیا کہ دمشق اور قادیان میں کیا مماثلت ہے اور اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اس کارروائی کا آخری سوال کیا۔انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب میں آپ کی توجہ محضر نامے کے صفحہ 189 کی طرف دلاتا ہوں۔اور اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ بعض ممبران محسوس کر رہے ہیں کہ اس کی Relevance کیا ہے۔پھر انہوں نے محضر نامے کے آخر پر درج حضرت مسیح موعود کی پر شوکت تحریر کا شروع کا حصہ پڑھا جو یہ تھا:۔”اے لوگو تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لیے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سنے گا۔“ 66 ہو حصہ پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ یہ کوئی دھمکی ہے یا اپیل ہے۔اس کی Relevance کیا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ دھمکی نہیں یہ خواہش بھی نہیں۔آپ سمجھ لیں خود کہ کیوں میں یہ لفظ استعمال کر رہا ہوں۔یہ دھمکی بھی نہیں یہ خواہش بھی نہیں۔یہ صرف ایک عاجزانہ التماس کی گئی ہے کہ تم اپنے اور میرے درمیان جو اختلاف ہے اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جب تم چھوڑو گے تو میری دعائیں قبول ہوں