دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 505 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 505

505 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری صاحب نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی وہ ایسے سوال کو دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی ہو چکا ہے لیکن وہ مصر تھے کہ میں Duplicate سوال کروں گا۔آخر انہوں نے پھر ایک سوال شروع کیا اور اپنی طرف سے حوالہ پڑھنا شروع کیا۔حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے دریافت فرمایا کہ یہ حوالہ کہاں کا ہے۔اس پر انہوں نے الفضل کا حوالہ دیا۔اس پر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا کہ آپ کے ہاتھ میں تو الفضل کا کوئی شمارہ ہے ہی نہیں۔آپ ایک کتاب سے یہ حوالہ پڑھ رہے ہیں اور یہاں پر یہ تجربہ پہلے بھی ہو چکا ہے کہ حوالہ در حوالہ پڑھا جاتا ہے اور وہ غلط نکلتا ہے۔اس پر مولوی صاحب نے اعتراف کیا کہ وہ سلسلہ کے مخالف الیاس برنی صاحب کی کتاب سے یہ حوالہ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔سپیکر صاحب نے کہا کہ آپ کا سوال کیا ہے۔اس پر بڑی مشکل سے مولوی ظفر انصاری صاحب کے ذہن سے یہ سوال برآمد ہوا کہ جو کہ در حقیقت سوال تھا ہی نہیں اور وہ یہ تھا کہ قرآن جو ہمارے پاس ہے یہ مکمل ہے اور اس پر ایمان لانا اور اس کی اتباع کرنا کافی ہے۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر فرمایا ”یہ قرآن کریم جو میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے،اس کو گواہ بنا کر میں اعلان کرتا ہوں۔سوائے اس قرآن کے ہمارے لئے کوئی کتاب نہیں۔“ صحابه اس پر مولوی صاحب نے موضوع بدلا اور اس اعتراض پر آ گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کے متعلق صحابہ کا لفظ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ پھر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مصرعہ پر اعتراض کیا ع یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وحی کے ذریعہ بتا دیا گیا تھا کہ ان کے آباء کی نسل کائی جائے گی اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نسل چلے گی۔اس سے زیادہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔