دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 504 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 504

504 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہے کہ یہ کہے کہ اب کسی کو وحی نہیں ہو سکتی۔لیکن مولوی ظفر انصاری صاحب کا خیال تھا کہ انہیں یہ حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ شہد کی مکھی کو بھی وحی ہوتی ہے لیکن اب اصطلاحِ شریعت میں اس کے خاص معنی متعین ہو گئے ہیں۔یہ بھی ایک خوب نکتہ تھا یعنی قرآنِ کریم ایک لفظ کے واضح طور پر کئی مطالب بیان کر رہا ہے اور مولوی حضرات مصر ہیں کہ نہیں اب ہماری شریعت میں اس کے ایک خاص معنی متعین ہو گئے ہیں۔اور اب یہی چلیں گے۔اس کے بعد انہوں نے لغت کا سہارا لے کر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی۔اور یہ کوشش خود اتنی بے وزن تھی کہ انہوں نے عربی میں قرآنی اصطلاح کا مطلب بیان کرنے کے لیے اردو کی لغت فرہنگ آصفیہ کا حوالہ پیش کر دیا۔اس پر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے ارشاد فرمایا کہ اردو کی ضرورت نہیں بہت سے الفاظ عربی میں ایک معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اردو میں دوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔قرآنی الفاظ کی سب سب سے معتبر لغت مفردات امام راغب میں وحی کا مطلب ان الفاظ سے بیان ہونا شروع ہوتا ہے۔انوخی کے اصل معنی اشارہ سریعہ کے ہیں اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو ”امر وحی “ کہا جاتا ہے اور المنجد میں وحی کا مطلب یہ لکھا ہے ”لکھا ہوا ، پیغام ، الہام ، الہام کردہ چیز، انبیاء کی وحی، رمز ، اشارہ“۔لفظ وحی ان سب پر اطلاق پاتا ہے اور خود قرآنِ کریم میں وحی کا لفظ اشارہ کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔اب سپیکر صاحب نے مولوی صاحب کے سوالات کی ڈولتی ہوئی ناؤ کو کوئی سمت دینے کے لئے کہا کہ پہلے وہ تحریف قرآن پر سوالات مکمل کر لیں لیکن اب مولوی صاحب ادھر کا رخ نہیں کر رہے تھے۔مولوی صاحب نے پھر لمبی چوڑی بے جوڑ بحث شروع کر دی۔کبھی وہ وحی اور الہام کی بحث میں پڑتے اور کبھی یہ کہتے کہ ہم صرف قرآنِ کریم کو مانتے ہیں اور قادیانی اس کے علاوہ مرزا صاحب کے الہامات کو بھی مانتے ہیں۔سپیکر