دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 503
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 503 موٹی کی والدہ کو بھی وحی ہوئی تھی۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے تفصیل سے یہ مضمون سمجھانا شروع کیا اور فرمایا کہ ہم نے وسیع مواد جمع کیا ہے جس کے مطابق امت کے بہت سے سلف صالحین نے یہ دعویٰ کیا یہ کہ انہیں وحی کے اعزاز سے نوازا گیا ہے اور پھر حضور نے فرمایا کہ اب تو ایک اخبار میں یہ فتویٰ بھی چھپ گیا ہے کہ کسی مسلمان کو سچی خواب بھی نہیں آ سکتی۔اس قسم کی باتوں سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال دہرایا کہ مرزا صاحب کو الہام ہوتا تھا یا وحی ہوتی تھی۔حضور نے اس کا جواب ایک خاص انداز سے دیا آپ نے فرمایا کہ اس کا جواب میں دوں یا صحیح مسلم میں درج آنحضرت صلی ایم کی حدیث شریف دے اور پھر آپ نے حضرت نواس بن سمعان کی بیان فرمودہ وہ حدیث بیان فرمائی جو کہ صحیح مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال میں مذکور ہے۔اس حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی الم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آخری زمانہ میں مبعوث ہونے والے حضرت عیسی کو وحی کرے گا کہ میں نے ایسے لوگ برپا کیے ہیں کہ کسی کو ان سے جنگ کی طاقت نہیں اس لیے تم میرے بندوں کو پہاڑ کی طرف لے جاؤ۔اب اس سے یہ واضح ہو گیا کہ خود آنحضرت صلی علیم نے یہ فرمایا تھا کہ آپ کے بعد مسیح موعود کو وحی ہو گی اور قرآنِ کریم تو یہ کہہ رہا ہے کہ شہد کی مکھی کو بھی وحی ہوتی ہے اور صرف حضرت سید عبد القادر جیلانی اور عبد اللہ غزنوی صاحب ہی نہیں امتِ مسلمہ کے اولیاء نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قرآنی آیات وحی ہوئیں ہیں۔مثلاً حضرت محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ میں تحریر کیا ہے کہ ان پر آیت قُلْ أَمَنَّا بِاللهِ وَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيْلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَ عِیسٰی۔۔۔نازل ہوئی اور پھر لکھتے ہیں کہ اس آیت کو میرے لیے ہر علم کی کنجی بنایا گیا اور میں نے جان لیا کہ میں ان تمام انبیاء کا مجموعہ ہوں جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے (100)۔تذکرۃ الاولیاء میں درج ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مبارک کو آیت اَوْفُوا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا الہام ہوئی۔تو اب یہ حق کس کو حاصل