دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 502
502 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ سوال کا جواب دے دیا گیا ہے اگلا سوال کریں۔لیکن حضور نے فرمایا کہ وہ کچھ مثالیں اور پڑھنا چاہتے ہیں۔سپیکر صاحب نے اتفاق کیا اور اس پر حضور نے عبد اللہ غزنوی صاحب کو ہونے والے مزید الہامات پڑھے جو قرآنی آیات پر مشتمل تھے۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی" قرآن کریم ایک آیت جو حضرت یوسف کے بارے میں تھی یعنی إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مِكِيْنْ أَمِين (يوسف : 55) الہام ہوئی۔( فتوح الغیب ، ناشر محمد تقی محمد زکی، مقالہ 28 ص 57)۔اسی طرح کتاب ” سوانح عمری مولوی عبد اللہ غزنوی المرحوم و مکتوبات“ جو ان کے بیٹوں نے شائع کرائی تھی ، اس کے صفحہ 35و36 پر مولوی صاحب کے کئی الہامات درج ہیں اور ان میں سے وہ آیات بھی ہیں جو رسول اللہ صلی اللی کیم کو مخاطب کر کے نازل ہوئی تھیں۔ان میں سورۃ کہف آیت 29 اور سورۃ القیامة کی آیت 19 اور سورۃ نازعات آیت نمبر 41 شامل ہیں۔اور یہ بات صرف حضرت سید عبد القادر جیلانی یا عبد اللہ غزنوی صاحب تک محدود نہیں تھی بلکہ اسلامی تاریخ میں ایسے بہت سے اولیاء گزرے ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے۔مثلاً علم حدیث کے مشہور امام حضرت احمد بن حنبل ” نے فرمایا ہے کہ انہیں نہ صرف وحی ہوئی بلکہ وحی لانے والا جبرئیل تھا۔الشفاء بتعريف حقوق المصطفى تاليف عياض بن موسى ناشر عبد التواب ص13) اب مولوی ظفرا نصاری صاحب کی گلو خلاصی کے لیے اٹارنی جنرل صاحب سامنے آئے اور یہ غیر متعلقہ سوال کر کے موضوع بدلنے کی کوشش کی کہ الہام اور وحی میں کیا فرق ہے۔اس سوال کی بنیاد یہ ہے کہ بہت سے علماء نے یہ غلط فہمی پھیلائی ہے کہ وحی تو صرف نبی کو ہو سکتی ہے اور رسولِ کریم صلی ال ولیم کے بعد کسی کو وحی نہیں ہو سکتی۔حالانکہ قرآن کریم کے مطابق تو شہد کی مکھی کو بھی اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے اور حضرت