دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 499
499 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری وو والے پر تحریف قرآن کا الزام تو نہیں آتا۔اسی طرح احمد رضا خان بریلوی صاحب کے ” الملفوظ‘ حصہ اول ص88 پر سورۃ الجن آیت 68967 غلط درج ہے۔فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد پنجم ص130 پر آلِ عمران کی آیت 49 غلط درج ہے اور مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب ” بہشتی زیور“ میں سورۃ کہف کی آیت 31 غلط درج ہے۔(ملاحظہ کیجئے ایڈیشن ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز ، نومبر 1953ص5)۔ان کے علاوہ اس کی بیبیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔پھر دوبارہ اس موضوع پر سوالات شروع ہوئے تو ظفر احمد انصاری صاحب نے یہ بیان کرنا شروع کیا کہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا جو انگریزی ترجمہ قرآن ہے۔Commentary کے ساتھ۔ابھی وہ بات مکمل نہیں کر پائے تھے کہ حضور نے فرمایا کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی کا کوئی انگریزی ترجمہ قرآن موجود نہیں ہے لیکن مولوی صاحب یہ بات دہرانے کے با وجود بات سمجھ نہیں پائے اور کہنے لگے کہ انہوں نے ترجمہ کیا ہے:۔And they have firm faith in what is yet to come ان کی مراد یہ تھی کہ سورۃ بقرۃ کی پانچویں آیت کے آخری حصہ کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔گویا ان کے نزدیک آخرہ کے لفظ کا ترجمہ صرف روز قیامت کے بعد کا وقت ہی ہو سکتا ہے۔عربی لغت کے اعتبار سے یہ اعتراض بے بنیاد ہے کیونکہ آخر کا لفظ اوّل کے مقابل پر استعمال ہوتا ہے اور آخرت کے علاوہ اس آیت میں سیاق و سباق کے لحاظ سے اس کا مطلب بعد میں ظاہر ہونے والے واقعات بھی ہو سکتے ہیں۔مولوی ظفر انصاری صاحب کو اس موضوع پر گرفت نہیں تھی لیکن وہ اپنی طرف سے دلیل کے طور پر یہ حوالے پیش کر رہے تھے کہ بہت مسلمان اور عیسائی مترجمین نے جب اس آیت کریمہ کا انگریزی میں ترجمہ کیا تو اس میں