دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 484
484 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اسہال کی بیماری تھی جو کہ جب کام کا شدید دباؤ ہو تو یہ تکلیف اور شدید ہو جاتی تھی اور اس بیماری کا حملہ پہلے بھی کئی مرتبہ ہو مرتبہ ہو چکا تھا اور حضور کی مبارک زندگی میں ہی اس تکلیف کا ذکر جماعت کے اخبارات اور کتب میں بار بار آچکا تھا۔ا حکم 24 / جولائی 1901ء ص 11, 10 اور تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 ص208) ہیضہ کی طرز یہ بالکل نہیں ہوتی کہ سالہا سال وقفوں سے اس کی علامات ظاہر ہوتی رہیں ایسا ulceratice colitis جیسی بیماریوں میں ہوتا ہے۔ہیضہ میں مرض چند دن میں ترقی کر کے شدید ہو جاتا ہے اور پھر مریض کی موت ہو جاتی ہے یا پھر اس کے جسم میں روبصحت ہو کے اس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔اور کسی حدیث میں یہ نہیں لکھا کہ کسی مامور یا ولی اللہ کی وفات ہیضہ سے نہیں ہو سکتی اگر کچھ لکھا ہے تو یہ لکھا ہے کہ پیٹ کی بیماری۔سے مرنے والا شہید ہے۔( صحیح بخاری۔باب الشھادت سبع سوى القتل ) پھر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ احمدیوں نے کہا تھا کہ مذہباً ترکوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور اٹارنی جنرل صاحب نے کوئی حوالہ پڑھ کر غلطیوں میں اضافہ کرنے کی کوشش تو نہیں کی البتہ یہ ضرور کہا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے یاد ہے کہ یہ کہا گیا تھا کہ ہم ترکی کے سلطان کو مذہباً خلیفہ نہیں مانتے۔اب یہ بات ظاہر ہے کہ پہلی اور دوسری بات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اور صاف ظاہر ہے احمدی خلافت احمدیہ سے وابستہ ہیں اور وہ ترکی کے سلطان کو خلیفہ کیوں ماننے لگے۔اور تو اور پاکستان میں غیر احمدی مسلمانوں سے پوچھ لیں کہ ان میں سے کتنے ترکی کے سلطان کو خلیفہ راشد سمجھتے ہیں، ایسا آدمی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔اور پھر یہ