دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 46 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 46

46 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کرتا ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہمارا محافظ اور Savior ہے تو وہ بڑا ہی نالائق اور بیوقوف ہے ، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی سے ہم نے دولت لینی ہے یا کسی سے ہم نے اثر ورسوخ حاصل کرنا ہے تو اس سے زیادہ نا سمجھ اور کوئی نہیں ہم تو ایک ہی ہستی کے در پر جا پڑے ہیں اور اپنے اس مقام عجز اور فروتنی پر خوش ہیں اور مطمئن ہیں اور راضی ہیں۔۔۔بعض لوگوں نے (یہی جو پیپلز پارٹی میں ہمارا معاند اور مخالف گروپ ہے اس میں سے بعض نے ) یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ ہمارے بہت سر چڑھ گئے ہیں سفارشیں لے کر آجاتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی سفارشیں مانیں گے اس قسم کی باتیں سننے میں آئیں۔اگر چہ ہم اس بات کا پیپلز پارٹی کو بحیثیت جماعت الزام نہیں دیتے کیونکہ اس قسم کی باتیں کرنے والا ان کی پارٹی کا چھوٹا سا حصہ ہے لیکن میں نے سوچا کہ اگر اس چھوٹے سے حصہ کی طرف سے بھی اس قسم کی آواز نکلتی ہے تو ان سے بالکل تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔چنانچہ میاں طاہر احمد صاحب بہت سارے کام کرتے تھے ان کو میں نے بلا کر مزاحا کہا کہ اب آپ اپنے آپ کو Under House Arrest سمجھیں آپ نے باہر بالکل جاناہی نہیں۔یہ ( پیپلز پارٹی والے ) اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں کیا ہم ان کے محتاج ہیں۔ہم اگر کسی کے محتاج ہیں تو خدائے قادر و توانا کے محتاج ہیں۔خدا کرے کہ ہماری یہ احتیاج ہمیشہ قائم رہے عمل کے لحاظ سے بھی اور اعتقاد کے لحاظ سے بھی اور ایمان کے لحاظ سے بھی۔غرض وہی خدائے قادر و توانا ہے جو ہماری ہر ایک احتیاج کو پورا کرنے والا ہے۔دنیا نے ہماری ضرورتوں کو کیا پورا کرنا ہے اور ہم نے ان سے کیا مانگنا ہے۔غرض میاں طاہر احمد صاحب کو میں نے روک دیا کہ آپ باہر جائیں ہی نہ۔ہمیں ضرورت ہی کوئی نہیں تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے پندرہ میں فیصد لوگ اس قسم کی باتیں کریں تو ہم نے پارٹی سے ناراض ہو جانا ہے۔ان پندرہ میں فیصد لوگوں سے بھی اگر کہیں اتفا قاملاقات ہو جائے تو کیا وہ حسن اخلاق جو اسلام نے ہمیں سکھائے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اخلاق کا ہماری زندگیوں میں دوبارہ احیاء فرمایا ہے۔وہ ہم چھوڑ دیں گے ؟ نہیں ہر گز نہیں ! ہم اسی طرح بشاشت اور مسکراتے چہروں کے ساتھ ان سے ملیں گے اور ان کی نالائقیوں کا ہم ان کے سامنے اظہار بھی نہیں کریں۔۔۔۔۔۔(1) پھر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ المسیح الثالث نے موجودہ حالات پر منطبق ہونے والے قرآنِ کریم کے بعض احکامات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات بیان فرمائے اور ان کی روشنی میں جماعت احمدیہ کی اہم ذمہ داریاں اور ان سے عہدہ بر آہونے کا صحیح طریق بیان فرمایا اور فرمایا کہ ہمیں اجتماعی زندگی میں فساد سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور فساد