دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 45
45 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جو دنیا میں دنیا کی خاطر پیدا ہوتی ہے۔یہ اس قسم کی دوستی نہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تو تمہارے لئے عزت اور شرف کا سامان آسمانوں سے نازل کیا تھا اور تم اس سے بے اعتنائی برت رہے ہو۔پیپلز پارٹی کا ایک تیسر اگر وہ بھی ہے اور اس کی شاید اکثریت ہے۔یہ گروہ نیوٹرل ہے یعنی نہ ہمارے ساتھ اس کی کوئی دوستی ہے اور نہ ہمارے ساتھ اس کی کوئی دشمنی ہے۔چونکہ پارٹی میں اس گروہ کی اکثریت ہے اور دنیا میں بالعموم نیوٹرل کی اکثریت ہوا کرتی ہے اس لئے اگر پیپلز پارٹی کی قیادت ان کو صحیح راستہ بتا دے گی تو وہ صحیح راستہ پر چل پڑیں گے اگر ان کو غلط راستہ پر ڈال دیں گے تو غلط راستہ پر چل پڑیں گے۔حضور نے ان تین گروہوں کا تجزیہ کرنے کے بعد فرمایا:۔وو "۔۔۔۔۔۔پھر چونکہ ہم نے کوئی سودا بازی نہیں کی تھی کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا اس لئے اگر پیپلز پارٹی کا وہ معاند گروہ (جس کا میں پہلے تجزیہ کر آیا ہوں اور جو پندرہ بیس فیصد سے زیادہ نہیں) اگر احمدیت مردہ باد کا نعرہ لگائے تو کسی احمدی دوست کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی کا ہم سے کوئی معاہدہ تھا جس کی انہوں نے کوئی خلاف ورزی کی ہے۔ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے ہم نے ان کے ساتھ کوئی سودا بازی نہیں کی۔اگر وہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی کریں تو ہمیں دکھ ہو گا، گلہ شکوہ اور غصہ نہیں آئے گا کیونکہ سودا بازی کا مطلب یہ ہے کہ جس سے ہم سودا بازی کر رہے ہیں وہ ہمیں غلام سمجھ کر یا مال سمجھ کر مارکیٹ میں لے جائے اور یہ تو ہم ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس معاند گروہ کی طرف سے ہمیں آوازیں پہنچتی رہتی ہیں کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے لیکن ہم پیپلز پارٹی کو بحیثیت مجموعی مورد الزام نہیں ٹھہر اسکتے۔میں آج کی بات کر رہا ہوں کل کا مجھے پتہ نہیں کیا ہو گا۔نہ ہمیں اس بات کا کوئی حق ہے کیونکہ ہم نے ان کے ساتھ کوئی سودا ہی نہیں کیا۔ہم نے ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اس شرط کے ساتھ کہ صرف وہی ہمارے دوست نہیں ہوں گے اور بھی ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ ہم نے کوئی الحاق تو نہیں کیا تھا۔ہم نے تو دوسری پارٹیوں کے بعض امید واروں کو بھی ووٹ دیئے تھے اب ان کی مرضی ہے کہ وہ دوستی کے حق کو نبا ہیں یا نہ نباہیں۔ہمیں تعلیم دینے والے نے یہ فرمایا ہے کہ تم نے خود دوستی نہیں توڑنی لیکن ہمیں خدا نے یہ اختیار تو نہیں دیا کہ دوسروں کو مجبور کریں کہ ضرور دوستی قائم رکھی جائے۔دوستی کا تعلق ضرور ہے لیکن ہم ان کو خدا نہیں سمجھتے نہ داتا سمجھتے ہیں۔ان داتا کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ت یہ یادرکھیں پھر میں کہتا ہوں کہ یادرکھیں ہمارے لئے ایک ہی دروازہ ہے جس کی دہلیز پر ہم کھڑے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا دروازہ ہے۔خدا کی رحمت کے دروازے کے مقابلہ میں ان دروازوں کی حیثیت ہی کیا ہے اور ہم نے ان کی طرف منہ کیوں