دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 473
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 473 ثبوتوں کے ساتھ ان مظالم کی تفاصیل سلامتی کونسل کے سامنے رکھی تھیں۔کوئی بھی سلامتی کونسل کے ریکارڈ سے اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے۔پھر یہ فرسودہ اور بالکل غلط الزام دہرانے کی کوشش کی گئی کہ جماعت احمدیہ کے عقائد کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درجہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی ال نیم کے برابر ہے۔جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں ہی اس الزام کو بالکل غلط ثابت کر دیا گیا ہے۔ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کی کوشش میں اٹارنی جنرل صاحب نے چشمہ معرفت کا یہ حوالہ پڑھ کر سنایا ”یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اُس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالم گیر غلبہ اُس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالم گیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو اس لیے اس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالم گیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔کیونکہ اس عالم گیر غلبہ کے لئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی پہلے زمانہ میں وہ پائے نہیں گئے۔“ 66 چشمه معرفت تصنیف 15 مئی 1908 - روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 91-90) اپنی طرف سے یہ اعتراض اُٹھایا جا رہا تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ غالب غلبہ میرے زمانے میں ہو گا اور آنحضرت صلی علیم کے زمانے میں نہیں ہوا تھا اور اس طرح آپ نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی ام پر فضیلت کا دعویٰ کیا ہے۔لیکن ایک بار پھر بڑی چالاکی سے نامکمل عبارت پیش کی گئی اور جو عبارت پڑھی گئی اس سے قبل لکھی گئی آیت کریمہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ اس سے اصل مضمون واضح ہو جاتا تھا۔حضرت