دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 470 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 470

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 470 قادیانی بھی ہیں جن کے بانی قصبہ قادیان سے ہیں اور اس کے ایک ایک ذرہ سے ان کی تاریخ وابستہ ہے اور قادیانی بڑے واضح الفاظ میں پاکستان کے حق میں رائے دے چکے ہیں۔(The Partition of Punjab A Compilation of Official Documents Vol۔1 p470-473) اس میمورنڈم میں لفظ قادیانی کا استعمال ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ اس کی تیاری میں کسی احمدی کا ہاتھ نہیں تھا۔حقیقت یہ ہے یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے مسلم لیگ کے علاوہ اور کئی مسلمان گروہوں سے مسلم لیگ کے کیس کو مضبوط بنانے کے لئے میمورنڈم پیش کرائے گئے تھے۔مثلاً پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اپنا علیحدہ میمورنڈم پیش کیا تھا مسلمانان بٹالہ نے مسلم لیگ تحصیل بٹالہ کے صدر کی وساطت سے علیحدہ میمورنڈم پیش کیا تھا۔لدھیانہ کی مسلم لیگ نے اپنا علیحدہ میمورنڈم پیش کیا تھا۔جالندھر کی مسلم لیگ نے اپنا علیحدہ میمورنڈم پیش کیا تھا۔انجمن مغلیہ نے اپنا علیحدہ میمورنڈم پیش کیا تھا، ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن نے اپنا علیحدہ میمورنڈم پیش کیا تھا، تحصیل جالندھر کی مسلم راجپوت ایسوسی ایشن نے علیحدہ اور مسلم راجپوت کمیٹی گڑھ شنکر اور نواں شہر نے علیحدہ میمورنڈم پیش کیا، انجمن مدرسة البنات جالندھر نے علیحدہ میمورنڈم پیش کیا۔اس پس منظر میں جماعت احمدیہ کو الزام دینا کہ اس نے ایسا میمورنڈم کیوں پیش کیا ، ایک بے معنی بات ہے۔(The Partition of Punjab A Compilation of Official Documents Vol۔1 p474-477) اور یہ میمورنڈم مسلم لیگ کے کیس مضبوط کرنے کے لئے اور ان کی حمایت کے لئے پیش کئے گئے تھے۔اسی طرح سکھوں کی طرف سے ایک مجموعی میمورنڈم پیش کیا گیا تھا اور اس کی تائید میں سکھوں کے