دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 469
469 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری احمدیہ کا کیس پیش کیا تھا۔یہ بات بالکل غلط ہے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مسلم لیگ کا کیس پیش کیا تھا اور مکرم شیخ بشیر احمد صاحب نے جماعت احمدیہ کا کیس پیش کیا تھا۔اس بنیادی غلطی سے ہی یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یا تو جس وقت یہ مضمون لکھا گیا اس وقت لکھنے والی کی یادداشت اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی یا پھر وہ عمداً حقائق کو مسخ کر کے پیش کر رہے تھے۔یہ سوال ضرور اہم ہے کہ آخر جماعت احمدیہ نے میمورنڈم کیوں پیش کیا؟ تو یہ میمورنڈم بھی مسلم لیگ کے کہنے پر اس کے کیس کو مضبوط کرنے کے لئے پیش کیا گیا تھا اور جو بھی اس کی شائع شدہ کارروائی کو پڑھے گا اس پر یہ حقیقت کھل جائے گی۔کانگرس کے کیس کو مضبوط کرنے کے لئے سکھوں کی طرف سے یہ موقف پیش کیا گیا تھا کہ لاہور اور مغربی پنجاب میں ان کے بہت سے مقدس مقامات موجود ہیں اور چونکہ زیادہ تر سکھ مشرقی پنجاب میں آباد ہیں اور ہندوستان میں شامل ہو رہے ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ جن اضلاع میں سکھوں کے مقدس مقامات ہیں وہ پاکستان کا نہیں بلکہ ہندوستان کا حصہ بنائے جائیں اور اس کے مقابل پر مسلم لیگ کی طرف سے یہ موقف پیش کیا گیا تھا کہ اس کلیہ کے تحت تو جن اضلاع میں مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں خاص طور پر جو اضلاع متنازع ہیں انہیں لازمی پاکستان میں شامل کرنا چاہئے۔خاص طور پر جبکہ ان کی اکثریت بھی مسلمان ہے اور جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں ایک یہ اہم پہلو بھی اجاگر کیا گیا تھا اور اس قسم کا میمورنڈم مسلم لیگ نے صرف جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش نہیں کرایا تھا بلکہ اس قسم کا میمورنڈم مسلمانان بٹالہ نے صدر مسلم لیگ بٹالہ کی وساطت سے پیش کیا تھا جس میں دیگر دلائل کے علاوہ یہ دلیل بھی پیش کی گئی تھی کہ تحصیل بٹالہ میں مسلمانوں کے بہت سے مزارات اور مقدس مقامات ہیں اور اس میمورنڈم میں ایک حصہ یہ بھی تھا اگر مذہبی مقدس مقامات اور مزارات کو فیصلہ میں مد نظر رکھا جا رہا ہے تو پھر مسلمانوں میں ایک فرقہ