دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 468 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 468

468 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری River and the Basanter river would automatically go to India۔As it is this area has remained with us but the stand taken by the Ahmadi's did create considerable embarrassment for us in the case of Gurdaspur"۔(Pakistan Times,June 24, 1964, article ' Days to Remember by M۔Munir) اب ہم مندرجہ بالا حوالے کے مختلف مندرجات کا جائزہ لیتے ہیں۔اس کے پہلے حصہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جسٹس محمد منیر صاحب یہ تحریر فرما رہے ہیں کہ انہیں پورے وثوق سے اس بات کا علم نہیں کہ احمدیوں کے میمورنڈم کا مقصد کیا تھا ؟ کیا وہ مسلم لیگ کے کیس کی تائید کر رہے تھے یا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ایک پہلو تو ہم وضاحت سے بیان کر چکے ہیں کہ اس میمورنڈم کی پہلی سطر سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی تھی کہ جماعت احمدیہ کے اس میمورنڈم کا مقصد کیا تھا اور بعد کے مندرجات جو کہ اب شائع ہوچکے ہیں اور ہر کوئی ان کا مطالعہ کر سکتا ہے، اس بات کو بالکل واضح کر دیتے ہیں کہ یہ سارا میمورنڈم مسلم دیتے ہیں کہ یہ سارا میمورنڈم مسلم لیگ کے کیس کی تائید کے لئے پیش کیا گیا تھا۔اگر حقیقت میں جسٹس محمد منیر صاحب کو اس معاملہ میں ابہام رہ گیا تھا تو اس سے صرف ہو ایک ہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ انہوں بحیثیت حج تمام متعلقہ کا غذات کا مطالعہ نہیں کیا تھا لیکن ایسا بھی نہیں سکتا کیونکہ جیسا کہ ہم حوالہ درج کر چکے ہیں کہ انہوں خود 1953ء کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں یہ تحریر فرمایا تھا کہ وہ اس وقت احمدیوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ قادیان کو پاکستان میں شامل کرانے کے لئے کوشش کریں۔ان کی پہلی تحریر دوسری تحریر کی تردید کر رہی ہے۔دوسرے یہ مضمون تین اقساط میں شائع ہوا تھا جو حوالہ ہم نے پیش کیا ہے وہ تیسری قسط کا ہے اور اس کی پہلی قسط میں جسٹس منیر صاحب نے تحریر فرمایا تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مسلم لیگ اور جماعت