دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 462
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 462 23 / اگست کی کارروائی اس روز کارروائی شروع ہوئی اور ابھی حضور انور ہال میں تشریف نہیں لائے تھے کہ ممبرانِ اسمبلی نے اپنے کچھ دکھڑے رونے شروع کئے۔ایک ممبر اسمبلی صاحبزادہ صفی اللہ صاحب نے یہ شکوہ کیا کہ پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مرزا ناصر احمد لکھا ہوا بیان نہیں پڑھیں گے سوائے اس کے کہ وہ مرزا غلام احمد یا مرزا بشیر الدین کا ہو لیکن وہ کل ایک کاغذ سے پڑھ رہے تھے اور یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ یہ حوالہ کس کا ہے؟ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک چھوٹا سا سوال کرتے ہیں اور یہ جواب میں ساری تاریخ اپنی صفائی کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔جہاں تک صفی اللہ صاحب کی پہلی بات کا تعلق ہے تو شاید انہیں بعض باتیں سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہو اور دوسری بات بھی عجیب ہے۔اعتراض جماعتِ احمدیہ پر ہو رہے تھے۔کچھ اعتراضات ایسے تھے کہ ان کا صحیح تاریخی پس منظر پیش کرنا ضروری تھا۔کوئی بھی صاحب عقل اس بات کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا کہ بہت سی تحریروں اور واقعات کو سمجھنے کے لیے ان کے صحیح پس منظر کا جاننا ضروری ہے۔اصل مسئلہ یہ تھا کہ اعتراض تو پیش کیے جا رہے تھے لیکن جوابات تھے لیکن جوابات سننے کی ہمت نہیں تھی۔ایک اور ممبر ملک سلیمان صاحب نے کہا کہ کارروائی کی جو کاپی دی گئی ہے اس پر Ahmadiya issue لکھا ہوا ہے ، جب کہ یہ احمدی ایشو نہیں بلکہ قادیانی ایشو ہے۔یہ ہم نے فیصلہ نہیں کیا کہ یہ احمدی ایشو ہے۔اور شاہ احمد نورانی صاحب نے اس کی تائید کی۔گویا یہ بھی پاکستان کی قومی اسمبلی کا حق تھا کہ وہ ایک مذہبی جماعت کا نام اس کی مرضی کے خلاف تبدیل کر دیں۔لیکن اس وقت سپیکر صاحب نے اس خلاف عقل اعتراض پر کوئی توجہ نہیں دی۔