دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 463
463 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب کارروائی شروع ہوئی تو حضور نے قدرے تفصیل سے یہ تفاصیل بیان کرنی شروع کیں کہ کس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اور جماعت احمدیہ نے ہمیشہ مسلمانوں میں اتحاد کی کوششیں کیں اور ان کے مفادات کے لیے بے لوث خدمات سرانجام دیں۔جب سائمن کمیشن کا مرحلہ آیا اور حضور نے اس صورت حال پر تبصرہ تحریر فرمایا تو اخبار ”سیاست“ نے لکھا کہ اس ضمن میں حضرت خلیفة المسیح الثانی نے جو خدمات سرنجام دی ہیں وہ منصف مزاج مسلمان اور حق شناس انسان سے خراج تحسین وصول کرتی ہیں۔جب اہل فلسطین کے حقوق کے لئے حضور نے الكفر ملة واحدة تحریر فرمایا تو عرب دنیا کے کئی اخبارات نے اسے خراج تحسین پیش کیا۔حضرت خليفة المسیح الثالث نے اس کے حوالے پڑھ کر سنائے۔اٹارنی جنرل صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جماعت احمدیہ نے ہمیشہ اپنے آپ کو مسلمانوں اور اپنے ہم وطنوں کی امنگوں سے ان کی جدوجہد سے علیحدہ رکھا ہے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث نے اس کے جواب میں جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کا ایک حوالہ پڑھ کر سنایا۔ایک مرتبہ ہندوستان کی آزادی کے بارے میں حضرت خلیفة المسیح الثانی کا خطبہ الفضل میں شائع ہوا۔اس کا حوالہ دے کر مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات پر اعتراضات تو کئے لیکن اس کے ساتھ انہیں یہ اعتراف بھی کرنا پڑا: ”یہ الفاظ کس جرآت اور غیرت کا ثبوت دے رہے ہیں۔کانگرسی تقریروں میں اس سے زیادہ نہیں ملتے۔چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کا ولولہ جس قدر خلیفہ جی کی اس تقریر میں پایا جاتا ہے وہ گاندھی جی کی تقریر میں بھی نہیں ملے گا۔66 اہلحدیث۔6 / جولائی 1945ء۔ص4)