دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 44
44 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 1973ء کی ہنگامی مجلس شوری اب تک ہم یہ جائزہ لیتے رہے ہیں کہ 1973ء کے پہلے تین ماہ کے اختتام تک اس بات کے آثار نظر آرہے تھے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین پہلے کی طرح ایک بار پھر جماعت احمدیہ کے خلاف سازش تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن بہت سے حقائق ابھی منظر عام پر نہیں آئے تھے۔احباب جماعت کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ 1953ء کی نسبت بہت زیادہ وسیع میانہ پر یہ سازش تیار کی جارہی تھی۔1973ء کی مجلس مشاورت حسب معمول 30 مارچ تا یکم اپریل 1973 ء منعقد ہوئی تھی۔اب ایسے حالات پیدا ہو رہے تھے جن سے جماعت کو آگاہ کرنا ضروری تھا۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث " کے خصوصی ارشاد پر 27 مئی 1973ء کو مجلس مشاورت کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔حسب قواعد اس میں جملہ نمائندگان مجلس مشاورت 1973ء کو مدعو کیا گیا کیونکہ قواعد کے مطابق کسی مجلس شوری کا نمائندہ پورے سال کے لئے نما ئند ہ ہوتا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے حضور نے اس موقع پر 1970 ء کے انتخابات کے وقت ملک کی صورت حال اور انتخابات میں جماعت احمدیہ کے فیصلے کی حکمت کا تفصیلی تجزیہ فرمایا۔چونکہ اس وقت تک یہ بات ظاہر ہو چکی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک گروہ باوجو د اس حقیقت کے کہ انتخابات کے مرحلہ پر احمدیوں نے ان کی مدد کی تھی اور وہ خود درخواست کر کے احمدیوں کی مدد طلب کر رہے تھے ، اب جماعت کی مخالفت میں سرگرم نظر آرہے تھے۔وہ اقتدار میں آکر سمجھتے تھے کہ اب انہیں اس غریب مزاج گروہ کی کیا ضرورت ہے بلکہ اب احمدیوں کی مخالفت کر کے وہ مولویوں کی آنکھوں کا تارہ بن سکتے ہیں۔دنیاوی نگاہ سے دیکھا جائے تو ان کا تجزیہ غلط بھی نہیں تھا لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ پارہے تھے کہ اس غریب جماعت کا ایک مولا ہے جو ان کی حفاظت کر رہا ہے۔حضور نے اس مجلس شوری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین کے تین گروپ ہیں۔پہلا گروہ وہ ہے کہ جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا ہے وہ جماعت احمدیہ کے دشمن چلے آرہے ہیں۔اور اب جب کہ وہ اسمبلیوں کے ممبر اور حق و انصاف کے امین ہیں ہنوز ہمارے بڑے سخت مخالف اور معاند ہیں۔اور جماعت احمدیہ نے صرف ملک کے استحکام کی خاطر انتخابات میں ان لوگوں کی مدد کی تھی۔دوسر اگر وہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جن کے اندر کسی قسم کا مذہبی تعصب نہیں۔وہ انتخاب سے پہلے بھی ہمارے دوست تھے اور اب بھی ہیں تاہم یہ دوستی اسی قسم کی دوستی ہے ا