دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 455 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 455

455 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی مسلم لیگ کے صدر کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام کا جو کچھ بھی بچ گیا تھا وہ مکمل طور پر تباہ ہونے کے قریب تھا کہ قدرت نے ایک ایسی طاقت کو یہاں پر حکمران کر دیا جس نے ملک میں امن اور مذہبی روداری کو قائم کیا۔مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم پر ان خیالات کا اظہار ہو رہا تھا۔ان مواقع پر تمام ہندوستان سے مسلمانوں کے عمائدین موجود تھے۔ریکارڈ شائع ہو چکا ہے ہر کوئی پڑھ سکتا ہے۔کسی ایک نے بھی ان خیالات سے اختلاف نہیں کیا کیونکہ سب کے یہی خیالات تھے کہ اگر برطانوی حکومت ہندوستان میں قائم نہ ہوتی تو مسلمان مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے اور دشمن ہندوستان سے اسلام کو ختم کر دیتا۔اس کے باوجود اٹارنی جنرل صاحب کی حیرانی کہ اسلام کی رو سے انگریز حکومت کی اطاعت کیسے کی جا سکتی تھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو وہ تاریخ سے بالکل نا واقف تھے یا پھر حقائق کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔اس مرحلہ پر حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے ایک اہم تاریخی نکتہ کی طرف توجہ دلائی اور وہ نکتہ یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں تو مخالف مولوی حکومت برطانیہ کی خدمت میں بصد ادب عرض کر رہے تھے کہ حضور والا! ہم تو آپ کے وفادار اور خدمت گزار ہیں ، یہ مرزا غلام احمد (علیہ السلام) آپ کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہا ہے اور اس نے تو آپ کے سلطنت کے زوال کی پیشگوئی بھی کر رکھی ہے۔حضرت خليفة المسبح الثالث" نے اس کی مثالیں پڑھ کر سنائیں۔ہم ایک مرتبہ پھر احمدیت کے اشد ترین مخالف اور اہلحدیث کے مشہور لیڈر مولوی محمد حسین بٹالوی کی مثال درج کرتے ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں:۔