دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 452
452 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جماعت احمدیہ کے ان اشد مخالفین کے نزدیک اگر وہ برطانوی فوج کی فتوحات پر خوشی نہ مناتے تو ان مولویوں کے نزدیک وہ رسول اللہ صلی ال ظلم کے پیروکار ہی نہیں کہلا سکتے تھے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:۔”آزادی مذہبی جو اس سلطنت میں مسلمانوں کو حاصل ہے وہ بجائے خود ایک مستقل دلیل جواز مسرت ہے۔اس آزادی مذہبی کی نظر سے مسلمانوں کو اس حکومت پر اسی قدر مسرت لازم ہے جس قدر ان کو اپنے مذہب کی مسرت و محبت ہے۔۔۔مسلمان اس سلطنت کو (جس میں ان کو آزادی حاصل ہے پسند نہ کریں اور اس کی فتح و حکومت پر اس خوشی سے جو آنحضرت صلی یم اور مسلمانوں کو فتح روم پر ہوئی تھی ) بڑھ کر خوشی نہ کریں تو وہ اپنے پیغمبر علی ایم کے پیرو کیونکر کہلا سکتے ہیں۔“ (اشاعۃ السنہ۔جلد 10 نمبر 1۔ص14) جماعت احمدیہ کے ایک اور اشد مخالف مولوی ظفر علی خان صاحب نے جو کہ مسلم لیگ کے ایک نمایاں لیڈر بھی تھے خود یہ اقرار کیا تھا کہ وہ اور ہندوستان کے تمام مسلمان برطانوی حکومت کو عطیہ خداوندی سمجھتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے 1913ء میں برطانوی جریدے The Outlook میں ایک خط لکھا اور اس میں تحریر کیا An Indian Muslim looks upon the British Government as a divine dispensation۔یعنی ہندوستان کا مسلمان برطانوی حکومت کو ایک عطیہ خداوندی سمجھتا ہے۔