دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 451
451 ذکر دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا کہ مجھے اس بات پر حیرت ہوئی ہے کہ انگریز کی اطاعت کرنا بھی اسلام کا حصہ ہے۔ہم نے حضور کا جامع جواب بھی درج کر دیا ہے لیکن یہ بات قابلِ ہے کہ یہ حیرت بھی 1947ء کے بعد شروع ہوئی تھی ورنہ 1947 ء سے قبل جماعت احمدیہ کے مخالف علماء اور عام مسلمان اگر ملکہ وکٹوریہ کی جو بلی بھی مناتے تھے تو یہ فتویٰ دیتے تھے کہ اس جوبلی کا جواز قرآن سنت میں پایا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ کے اشد مخالف اور اہل حدیث کے مشہور لیڈر مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی کے موقع پر لکھا:۔جوبلی کے موقع پر اہلحدیث وغیرہ اہل اسلام رعایا برٹش گورنمنٹ نے جو خوشی کی ہے اور اپنی مہربان ملکہ قیصر ہند کی ترقی عمر اور استحکام سلطنت کے لئے دعا کی ہے اس کے جواز پر کتاب و سنت میں شہادت پائی جاتی ہے۔اس مضمون میں دلائل کتاب و سنت کا بیان دو غرض سے ہوتا ہے۔ایک یہ کہ گورنمنٹ کو یہ یقین ہو کہ اس موقع پر مسلمانوں نے جو کچھ کیا ہے سچے دل سے کیا ہے اور اپنے مقدس مذہب کی ہدایت سے کیا ہے۔“ (اشاعۃ السنہ۔جلد 9 نمبر 8۔ص228۔مضمون ”اہل اسلام کی مسرت موقع جوبلی پر شریعت کی شہادت“) اس کے علاوہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے نزدیک شریعت اسلامیہ کی رو سے ملکہ وکٹوریہ کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کے رنج کو اپنا رنج سمجھنا ضروری تھا۔وہ لکھتے ہیں:۔"جب ایسی شفیق ملکہ پروردگار نے ہماری خوش قسمتی سے ہماری سلطنت کے واسطے بنائی ہے تو بتائیے کہ عقلاً و عرفاً و شرعا کیونکر ہم اس کی خوشی کو اپنی خوشی نہ سمجھیں اس کے رنج کو اپنا رنج نہ تصور کریں۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہم پر نفرین ہے۔“ (اشاعۃ السنہ۔جلد 10 نمبر 1-ص31)