دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 439 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 439

439 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ان ارشادات نبویہ سے یہ بات ظاہر ہے کہ جہاد صرف جنگ کرنے کو یا تلوار اُٹھانے کو نہیں کہتے۔اس کے بہت وسیع معانی ہیں اور ان وسیع معانی کو محض قتال تک محدود کر دینا محض ایک نادانی ہے بلکہ رسولِ کریم صلی ای ایم نے قتال کو جہادِ صغیر قرار دیا ہے۔چنانچہ ایک غزوہ سے واپسی پر آنحضرت صلیالی یکم نے فرمایا رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ یعنی ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آرہے ہیں۔رد المختار على الدر المختار ، كتاب الجهاد) اور جہاں تک قتال کا تعلق ہے یہ دیکھنا چاہئے کہ شریعت نے اس کے لئے جو شرائط مقرر کی ہیں وہ پوری ہو رہی ہیں کہ نہیں۔وہ علماء بھی جو جماعت کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں، انہوں نے بھی اپنی تحریرات میں یہ شرائط بڑی تفصیل سے بیان کی ہیں۔اور جب /22/ اگست کو جہاد کے مسئلہ پر بات شروع ہوئی اور اس موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ احمدیوں کے نزدیک قتال کی شرائط کیا ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ابھی ہم فلسفیانہ بات کر رہے ہیں۔ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ قتال کی شرائط کے بارے میں ہمارے بھائیوں کا کیا فتویٰ ہے۔پھر آپ نے فرمایا میں مثال کے طور اہل حدیث کا فتویٰ بیان کرتا ہوں۔اور پھر آپ نے اہل حدیث کے مشہور عالم نذیر حسین صاحب دہلوی کا فتویٰ سنایا جو انہوں نے انگریز کے دورِ حکومت میں ہی دیا تھا۔ہم فتاویٰ نذیری سے ہی یہ فتویٰ نقل کر دیتے ہیں۔وو۔۔مگر جہاد کی کئی شرطیں ہیں جب تک وہ نہ پائی جائیں جہاد نہ ہو گا۔اوّل یہ کہ مسلمانوں کا کوئی امام وقت و سردار ہو۔دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں ایک نبی کا انبیاء سابقین سے قصہ بیان فرمایا ہے کہ ان کی امت نے کہا کہ ہمارا کوئی سردار اور امام وقت ہو تو