دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 440
440 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہم جہاد کریں۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيُّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ۔الآیة۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد بغیر امام کے نہیں کیونکہ اگر بغیر امام کے جہاد ہوتا تو ان کو یہ کہنے کی حاجت نہ ہوتی كَمَا لا یخفی اور شَرَائِع مِنْ قَبْلِنَا جب تک اس کی ممانعت ہماری شرع میں نہ ہو، حجت ہے۔كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى الْمَعَاصِرِ بِالْأُصُولِ۔اور حدیث میں آیا ہے کہ امام ڈھال ہے،اس کے پیچھے ہو کر لڑنا چاہئے اور اس کے ذریعہ سے بچنا چاہیے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اللَّهُ إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِه وَ يُتقى به الحديث رواه البخاری و مسلم۔اس سے صراحتا یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جہاد امام کے پیچھے ہو کر کرنا چاہئے بغیر امام کے نہیں۔دوسری شرط کہ اسباب لڑائی کا مثل ہتھیار وغیرہ کے مہیا ہو جس سے کفار کا مقابلہ کیا جاوے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔وَاعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّن قُوَّةٍ وَ مِنْ رَّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهَبُونَ بِهِ عَدُوّ اللهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَأَخَرِيْنَ مِنْ دُونِهِمْ الآية - (ترجمہ)۔اور سامان تیار کرو ان کی لڑائی کے لئے جو کچھ ہو سکے تم سے، ہتھیار اور گھوڑے پالنے سے اس سے ڈراؤ اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمنوں کو۔۔یعنی قوت کے معنی ہتھیار اور سامان لڑائی کے ہیں اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثَبَاتًا أَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا (ترجمہ)۔اے ایمان والو! اپنا بچاؤ پکڑو ، پھر کوچ کرو جدا جدا فوج یا سب اکٹھے