دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 437
437 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری شروع نہ کر دیتے۔جب کہ اس وقت مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی ہر طرح سلب کی جا رہی تھی۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور جب قرآنِ کریم میں قتال کی مشروط اجازت مدنی زندگی میں نازل ہوئی تو مسلمانوں کو اپنے دفاع میں انتہائی مجبوری کی حالت میں تلوار اُٹھانی پڑی۔پھر مکہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں جہاد کرنے والوں کا ذکر بھی مل جاتا ہے۔چنانچہ سورۃ النحل جو کہ مکہ میں نازل ہوئی تھی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُواْ مِن بَعْدِ مَا فُتِنُواْ ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُواْ إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيْم(النحل (111: ترجمہ۔پھر تیرا رب یقیناً ان لوگوں کو جنہوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ فتنہ میں مبتلا کئے گئے پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا تو یقینا تیرا رب اس کے بعد بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ تو سکی زندگی میں نازل ہونے والی آیت ہے۔اس وقت بھی مسلمان جہاد کا عظیم فرض ادا کر رہے چه با وجود سخت آزمائشوں کے قتال نہیں کیا جا رہا تھا۔جبکہ اس وقت مسلمان جہاں پر رہ رہے تھے وہاں پر مشرکین کی حکومت تھی۔پھر قرآنِ کریم سے ہی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ جہاد مال سے بھی کیا جاتا ہے۔جیسا کہ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ (الانفال : ۷۳) یعنی انہوں نے اموال اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔