دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 427 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 427

427 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہاں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کے اس سوال کی حقیقت کیا ہے۔اوّل تو اگر یہ بات سچ بھی ہوتی تو یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ایک شخص ایسی حالت میں جب کہ امن عامہ کو خطرہ ہو، پولیس کو حفاظت کے لیے کہے تو اس میں قابلِ اعتراض بات کون سی ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1891ء میں دہلی کا سفر کیا تو اس وقت مخالفت کا یہ عالم تھا کہ جس گھر میں حضور رہائش فرماتھے اس پر قتل کی نیت سے مسلسل بلوائیوں نے حملے کیے تھے۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مباحثہ کے لیے جامع مسجد دہلی تشریف لے جا رہے تھے تو راستے میں حملہ کرنے کے لیے کچھ لوگ بندوقوں سمیت تیار تھے مگر خود ہی بگھی والوں نے راستہ تبدیل کر لیا۔یہ اعتراض اُٹھانے والے یہ بھول گئے کہ جب آنحضرت علی الم طائف کے سفر سے واپس تشریف لائے تو آپ مکہ میں داخل ہونے سے قبل حرا کے مقام پر رک گئے اور آپ نے مکہ کے ایک مشرک رئیس مطعم بن عدی کو پیغام بھجوایا کہ کیا میں تمہارے پڑوس میں داخل ہو سکتا ہوں۔اس پر مطعم بن عدی نے خود بھی ہتھیار پہنے اور اپنے بیٹوں کو بھی مسلح کر کے بیت الحرام کے قریب کھڑے ہو گئے اور یہ اعلان کیا کہ میں نے محمد (صلی ) کو پناہ دی ہے اور آنحضرت صلی الیم خانہ کعبہ میں تشریف لائے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔(96) اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال کرتے ہوئے کئی تاریخی حقائق بھی غلط بیان فرمائے تھے۔حقیقت یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پولیس کو اپنی حفاظت کے لیے کہا ہی نہیں تھا بلکہ غیر احمدی علماء کو فرمایا تھا کہ وہ اس مناظرے کے لیے موقع کی مناسبت سے پولیس کا انتظام کر لیں۔اور یہ بات بھی غلط ہے کہ اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پولیس کی حفاظت میں کوئی تقریر کی تھی۔عملاً اس موقع پر کوئی تقریر ہوئی ہی نہیں تھی۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف بارہ خدام کے ساتھ جامع مسجد تشریف لے گئے تھے اور وہاں پر پانچ ہزار مخالفین کا مجمع تھا جنہوں نے پتھر اُٹھا رکھے تھے اور خون خوار