دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 418
418 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ممبران اسمبلی اس کارروائی کے افشا ہونے سے اس قدر خوف زدہ تھے کہ اس مرحلہ پر ایک ممبر نے کہا کہ وہ دروازہ کھلا رہتا ہے اور وہاں پر کوئی Constantly سنتا رہتا ہے۔سپیکر صاحب نے ہدایت دی کہ یہ معلوم کر کے بتائیں کہ یہ شخص کون ہے ، یہ طریقہ کار غلط ہے۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" جماعت احمدیہ کے وفد کے اراکین کے ہمراہ تشریف لائے تو اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ کل کی کوئی بات رہ گئی ہو بیان کر دیں۔حضور نے فرمایا کہ کل الفضل کا حوالہ دیا گیا تھا کہ اس میں حضرت خلیفة المسیح الثانی نے خطبہ الہامیہ کی ایک عبارت کی تشریح کی ہے۔تو اس کو چیک کیا گیا ہے جس جگہ کا حوالہ دیا گیا تھا اس پر ایسی کوئی عبارت نہیں ملی۔حضور نے فرمایا کہ کل مجھ پر جو الزام لگایا گیا تھا (یعنی بعض ممبران نے یہ الزام لگایا تھا کہ جو حوالہ ان کی تائید میں ہو وہ یہ نکال کر لے آتے ہیں اور جو ان کے خلاف جائے اس کو ٹالتے رہتے ہیں)۔ابھی حضور نے اپنا جملہ مکمل نہیں کیا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے جملہ کاٹ کر کہا کہ نہیں مرزا صاحب میں نے کوئی الزام نہیں لگایا۔66 لیکن حضور نے فرمایا۔جو ”نہیں میری بات تو سن لیں۔اس لیے سوالوں کے متعلق جو حوالے چاہئیں ، چاہئیں اسے معزز اراکین جو چاہیں خود تلاش کریں۔ہمیں آپ صرف یہ پوچھیں یہ حوالہ ہے اس کا مطلب کیا ہے ؟۔۔۔ہم پر یہ بوجھ نہ ڈالیں کہ آپ کے لئے ہم حوالے تلاش کریں۔“ ایک روز پہلے تو اٹارنی جنرل صاحب کے رویہ کی تلخی کا عالم کچھ اور تھا لیکن اس روز وہ کچھ معذرت خواہانہ رویہ ظاہر ظاہر کر رہے ہے تھے۔انہوں نے کہا:۔