دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 408
408 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کہا ہے۔حضور نے فرمایا کہ بات تو خطبہ الہامیہ کی ہو رہی تھی مگر مولوی صاحب اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں پائے اور الفضل کی عبارت پڑھنی شروع کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس پر فرمایا کہ اصل کتاب خطبہ الہامیہ ہے ہمیں بس اس میں سے سنا دیں۔شاید بہت سے پڑھنے والوں کو قومی اسمبلی کے اس انداز استدلال کا کچھ بھی سمجھ نہ آ رہا ہو اس لیے وضاحت ضروری ہے۔مولوی صاحب اسمبلی میں الفضل کے جس شمارے سے بزعم خود حضرت خلیفة المسیح الثانی کی تقریر کا حوالہ پڑھ رہے تھے (94) اس شمارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تقریر کا خلاصہ درج ہے مگر اس میں خطبہ الہامیہ یا ہلال اور بدر کی تمثیل کا ذکر ہی نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا خطاب تو اس خوش خبری کے بارہ میں تھا کہ پارہ اول کا انگریزی ترجمہ تیار ہو گیا ہے۔وہ جو حوالہ پڑھ رہے تھے وہ حضرت غلام رسول راجیکی صاحب کی پنجابی تقریر کا ترجمہ تھا اور اس جگہ پر بھی خطبہ الہامیہ کا نام تک درج نہیں تھا۔مولوی صاحب نے خطبہ الہامیہ کا حوالہ پڑھنے میں یہ کہہ کر تردد کیا کہ یہ بہت لمبا ہے۔بہر حال حضور کے اصرار پر مولوی صاحب نے خطبہ الہامیہ سے عبارت پڑھنے کی کوشش از سر نو شروع کی اور جو حوالہ پڑھا وہ ملاحظہ ہو:۔”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی طرح شکل اختیار کرے جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔پس انہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے قول میں کہ لَقَدْ نَصَرَ كُمُ اللهُ بِبَدْرٍ۔پس اس امر میں باریک نظر سے غور کر اور غافلوں میں سے نہ ہو۔“ (95) حضور نے اسی قت ارشاد فرمایا کہ