دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 398
398 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہ سوال مجھ پر نہیں آنحضرت صلی للی کم پر ہے کہ انہوں نے صرف ایک کا نام نبی رکھا۔اس سے پہلے کسی کا نام نبی نہیں رکھا۔مذکورہ شمارے میں آنحضرت صلی نیلم کے ارشاد کی بات ہو رہی ہے۔اور آپ کے جاری فیضان کی بات ہو رہی ہے۔( تشخیز الاذہان اگست 1917 کا سارا شمارہ ایک مضمون پر مشتمل تھا جس کا عنوان تھا ” محمدی ختم نبوت کی اصل حقیقت۔“ اس کے بعد حضور نے ایک اور غلط حوالے کی نشاندہی فرمائی۔اٹارنی جنرل صاحب نے الفضل 16 / جولائی 1949ء سے ایک حوالہ پیش کیا تھا کہ یہ گھبراتے ہیں کہ ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے اور مقصد یہ تھا کہ یہاں ذکر ہے احمدی مسلمان دوسروں کے مذہب کو کھا جائیں گے۔حضور نے فرمایا کہ اس شمارے میں تو اس قسم کا کوئی جملہ یا مضمون نہیں موجود لیکن ہم نے وعدہ کیا تھا کہ آگے پیچھے کے شماروں کا بھی جائزہ لیں گے تو جو حوالہ ملا ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔اس سے ملتی جلتی عبارت الفضل 25 / جولائی 1949ء کے الفضل میں شائع ہوئی تھی۔اور یہاں ایک اور بالکل مختلف مضمون بیان ہو رہا ہے۔یہاں تو یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ حضرت محمد صلی علیم کی ذات ہر نقص سے پاک اور دوسروں کے لئے ایثار کرنے والی نظر آتی ہے۔آپ ساری زندگی میں کسی شخص کا حق مارتے ہوئے نظر نہیں آتے۔لیکن اس کے با وجود آپ کی ذات اقدس کے بارے آپ کے مخالف بغض اور کینہ کا اظہار کرتے رہے ہیں۔دشمن اس بغض اور کینہ کے اظہار سے باز نہیں آتا۔جو شخص بھی مذہب کے بارے میں کچھ لکھتا ہے فوراً آپ کی ذات پر حملہ کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔آخر اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ مخالفین یہ محسوس کرتے ہیں کہ اسلام ایک صداقت ہے اگر اس کو نہ روکا گیا تو یہ صداقت پھیل جائے گی اور انہیں مغلوب کر لے گی۔یہی ایک چیز ہے جس کی وجہ سے آپ کی ذات سے دشمنی کی جا رہی ہے کہ اسلام ایک غالب آنے والا مذہب ہے، اسلام دوسرے مذاہب کو