دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 397
397 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اسی طرح حضور نے بعض اور حوالوں پر اُٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات بیان فرمائے اور جب ان حوالوں کو مکمل طور پر پڑھا جاتا تو کسی مزید وضاحت کی ضرورت ہی نہ رہتی ، یہ واضح ہو جاتا کہ اعتراض غلط تھا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایک حوالہ تشخیز الاذہان مارچ 1914ء کا پڑھا گیا تھا کہ ” بیعت نہ کرنے والا جہنمی۔“ حضور نے فرمایا کہ اصل میں اس شمارے میں یہ مضمون بیان ہی نہیں ہو رہا کہ کون جہنمی ہے اور کون نہیں ہے۔یہاں تو یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہامات میں تضاد نہیں ہو سکتا۔یعنی یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو یہ الہام کرے کہ تو میرا مقرر کردہ مامور ہے اور دوسرے کو یہ الہام کرے کہ یہ شخص فرعون ہے۔اور ایک کو الہام کرے کہ تیری پیروی نہ کرنے والا رسول اللہ صلی یام کے حکم کی نا فرمانی کرنے کی وجہ سے جہنمی ہے اور دوسرے کو یہ الہام کرے کہ جو اس کی پیروی کرتے ہیں وہ شقاوت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔(یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مکتوب تھا جو کہ ایک نام نہاد ملہم بابو الہی بخش کے نام لکھا گیا تھا۔یہ مکتوب تشخیز الاذہان مارچ 1914ء کے صفحہ 41 تا 46 پر شائع ہوا تھا۔) پھر حضور نے فرمایا کہ تشخیذ الاذہان اگست 1917ء کا ایک حوالہ دیا گیا تھا صرف ایک نبی ہو گا“ حضور نے تشحیذ الا ذہان کے اس شمارے سے ساری عبارت پڑھ کر سنائی کہ یہ جملہ تو یہاں نہیں لکھا ہوا۔یہاں یہ ذکر ہے کہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام میں صرف ایک نبی کیوں ہوا۔بہت سے ہونے چاہیے تھے۔یہ بات میں ذہن میں لائیں کہ آنحضرت صلی الم نبیوں کی مہر ہیں۔آپ نے جس کو نبی قرار دیا صرف وہی نبی ہو سکتا تھا اور پھر یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد درج ہے کہ جب ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ اسلام میں آپ سے پہلے کون سا امتی نبی ہوا ہے۔تو پھر اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ