دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 392
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 392 سکتے۔اگر اس رپورٹ کو شائع کیا جاتا تو پھر اس کے مندرجات پر تبصرہ کیا جا سکتا تھا ، جس طرح سپیشل کمیٹی کی کارروائی پر تبصرہ کیا جا رہا ہے۔ربوہ کے جو لڑکے سٹیشن کے واقعہ میں شامل تھے انہوں نے بلا شبہ غلطی کی لیکن اگر یہ لڑکے غنڈے تھے تو کیسے غنڈے تھے کہ کم از کم ڈیڑھ دو سو غنڈے دو گھنٹے کے قریب نشتر میڈیکل کالج کے لڑکوں کی پٹائی کرتے رہے اور کسی مضروب کی ہڈی تک نہ ٹوٹی اور نہ ہی کسی کو ایسی چوٹ آئی جسے ضرب شدید کہا جا سکے۔اور جب ہم نے دریافت کیا کہ اس ٹریبیونل کے رو برو 120 مقامات کی فہرست پیش کی گئی تھی جہاں پر فسادات ہوئے تھے تو صدانی صاحب کا کہنا تھا کہ یہ تو مجھے یاد نہیں کہ لسٹ پیش ہوئی کہ نہیں لیکن اس واقعہ کے بعد فسادات کا کوئی جواز نہیں تھا۔ข قومی اسمبلی کی کارروائی کے آغاز میں اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے کہا کہ آپ نے کچھ سوالات کے جوابات ابھی دینے ہیں۔یعنی پہلے جن حوالہ جات کو پیش کر کے اعتراضات اُٹھائے گئے تھے ان میں سے کچھ کو چیک کر کے جواب دینا ابھی باقی تھا۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ جواہات میرے پاس ہیں اور ان کے جوابات دینے شروع کیے۔پہلا حوالہ الفضل 3 / جولائی 1952ء کا تھا کہ اس میں لکھا تھا کہ ہم کامیاب ہوں گے اور دشمن ہمارے سامنے ابو جہل کی طرح پیش ہوں گے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ اس پرچہ کو دیکھا گیا اور اس میں لفظی طور پر یا معنوی طور پر اس قسم کا کوئی جملہ نہیں موجود۔ظاہر ہے کہ یہ وہ آ غاز نہیں تھا جس کی خواہش اٹارنی جنرل صاحب یا ان کی ٹیم یا اسمبلی کے اراکین رکھتے تھے۔ان کے زاویہ سے بسم اللہ ہی غلط ہو رہی تھی۔اٹارنی جنرل صاحب ذرا گھبرا کر بولے:۔66 "مرزا صاحب! آپ نے غور سے دیکھا ہے؟ کسی اور پرچہ میں۔۔۔