دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 371
371 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری شائع بھی کیا گیا ہے اس میں جگہ جگہ تحریف کی گئی ہے۔مندرجہ بالا حصہ شائع کرتے ہوئے ان مولوی حضرات نے اپنی طرف سے یہ ہوشیاری کی ہے کہ آئینہ کمالات اسلام کے حوالے کا وہ حصہ نہیں شائع کیا جو حضور نے اس وقت پڑھا تھا۔لیکن یہ جملہ اس تحریف شدہ اشاعت میں بھی اس طرح لکھا گیا ہے:۔”میرے عقیدے کے مطابق اس لحاظ سے کوئی غیر احمدی ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا اس معیار کا نہیں۔“ تاریخی قومی دستاویز 1974ء - ترتیب و تدوین اللہ وسایا۔ناشر عالمی مجلس ختم نبوت۔حضوری باغ روڈ ملتان۔جنوری 1997ء ص153) اگر چہ جیسا کہ اصل سے موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ اس جملہ میں بھی تحریف کی گئی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ”اس معیار کی جو تعریف بیان کی گئی تھی وہ درج نہیں کی لیکن پھر بھی یہ تحریف شدہ جملہ اس بات کو بالکل واضح کر دیتا۔دیتا ہے کہ اس جملہ میں غیر احمدی مسلمانوں کو ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا بیان کیا گیا تھا، غیر مسلم ہر گز نہیں کہا گیا تھا۔ہے اور اللہ وسایا صاحب نے ایک اور کتاب تحریک ختم نبوت بھی لکھی ہے۔اس کے حصہ سوئم میں اٹارنی جنرل یحیی بختیار صاحب کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا گیا ہے۔اس میں یحیی بختیار صاحب خود کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے حقیقی مسلمان کی لمبی تعریف بیان کی جو کہ گیارہ بارہ صفحات کی تھی اور پھر یہ بات کہی کہ کوئی غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا۔اس انٹرویو میں بھی بیٹی بختیار صاحب نے اپنے نام نہاد کارناموں کا بہت ذکر کیا ہے اور ان کے انٹرویو میں بہت سی غلط بیانیاں بھی ہیں لیکن سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وہ تو یہ کہہ رہے تھے کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے حقیقی مسلمان کی نہایت طویل تعریف بیان کی تھی۔اس کا ذکر تو اللہ وسایا صاحب کی شائع کی گئی کارروائی میں موجود نہیں۔اللہ وسایا صاحب نے تو جو کارروائی شائع کی ہے اس میں تو اس کا نام و