دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 367
367 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حوالے پر سوالات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کر کے جو بحث اُٹھائی وہ یہ تھی۔پہلے انہوں اپنی طرف سے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی اور تبصرہ کیا کہ یہ مقام کون حاصل کر سکتا ہے؟ اس پر حضور نے نشاندہی فرمائی کہ امتِ مسلمہ کی تاریخ میں لاکھوں لوگ یہ مقام حاصل کر چکے ہیں اور اب بھی ایسے ہزاروں میں ہوں گے جنہوں نے یہ اعلیٰ روحانی مقام حاصل کیا ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کیا سب دو احمدی اس تعریف میں آ سکتے ہیں؟ اس پر حضور نے فرمایا:۔نہیں آسکتے۔میں نے صاف کہہ دیا ہے نہیں آسکتے۔“ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا حوالہ کے مطابق ، جس میں حقیقی مسلمان کی یہ علامات لکھی گئی ہیں، یہ بات چل رہی تھی۔اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ کیا غیر احمدیوں میں کوئی اس معیار کا حقیقی مسلمان ہے آپ کے عقیدے کے مطابق۔اس پر حضور نے فرمایا:۔”میرے عقیدے کے مطابق۔ہاں یہ بڑا واضح ہے سوال۔میرے عقیدے کے مطابق اس تعریف کے لحاظ سے میرے علم میں کوئی غیر مسلمان حقیقی مسلمان نہیں۔غیر احمدی مسلمان ملتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا اس معیار کا کوئی نہیں۔“ بیجی بختیار صاحب نے کہا "حقیقی کوئی نہیں؟ اس پر حضور نے وضاحت فرمائی ” اس معیار کا حقیقی مسلمان۔“ اور پھر فرمایا: اس حوالے سے جو لکھا ہے۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے سپیکر صاحب سے وقفہ کے لیے درخواست کی اور سپیکر صاحب نے وقفہ کا اعلان کیا۔