دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 366
366 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضا و قدر کے امور بدل و جان قبول کئے جائیں اور نہایت نیستی اور تذلل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانونوں اور تقدیروں کو بارادت تام سر پر اٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور 66 اس کے آلاء اور نعماء کے پیچاننے کے لئے ایک قومی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی جائیں۔" (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 58 تا 60) ابھی حضور نے یہ حوالہ یہیں تک ہی پڑھا تھا کہ مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔وہ پیکر صاحب سے کہنے لگے:۔”جناب صدر یہ محضر نامہ میں تین صفحے ہم پڑھ چکے ہیں۔یہ تین صفحے سنانا تو بہت وقت لگے گا۔۔۔اسلام کی تعریف مرزا صاحب نے اپنا تقدس ظاہر کرنے کے لیے کی ہے۔“ پڑھنے والے اس بات کو خود ہی پرکھ سکتے ہیں کہ اس جواب کو شروع کرنے سے پہلے ہی حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے یہ فرما دیا تھا کہ اس سوال کا جواب تو محضر نامہ میں آچکا ہے لیکن چونکہ سوال دہرایا گیا ہے اس لئے میں اس کے جواب کو دہرانا چاہوں گا۔سوال کرنے والوں کی حالت یہ تھی کہ ان کے پاس کرنے کو وہی گھسے پٹے سوالات تھے جنہیں وہ مسلسل دہرائے جا رہے تھے اور یہ سوال کتنے ہی عرصہ سے کئے جا رہے تھے۔نیا سوال کوئی بھی نہیں تھا۔لیکن جب جواب سنایا جاتا تھا تو وہ اُن سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔جب اس کے متعلق ایک بار پھر سوال کیا گیا کہ کیا یہ حوالہ محضر نامے میں ہے تو اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث” نے فرمایا کہ پہلے دن یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ اگر سوال کو دہرایا جائے گا تو جواب بھی دہرایا جائے گا۔اس کے بعد اس