دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 363 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 363

363 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حوالہ آپ نے پڑھا وہ جعلی نکلا۔یہ وضاحت پیش کرو کہ ایسا کیوں ہوا۔کسی کی غربت یا امارت کا اس سے کیا تعلق؟ اس مرحلہ پر یہ صورت حال نظر آرہی تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب نے ”تذکرہ“ کے صفحہ 227 کا حوالہ دے کر ایک عبارت پڑھی۔پھر یکلخت انہیں پریشانی دامنگیر ہوئی کہ کہیں یہ بھی غلط نہ نکل آئے تو فوراً کہا:۔66 خیر یہ بعد میں کر لیں۔آپ دیکھ لیں اگر ایک دو صفحے آگے پیچھے ہوں۔" پھر ان کے تذبذب میں اضافہ ہو گیا اور انہیں یہ وسوسہ لاحق ہوا کہ شاید ایک دو صفحے آگے پیچھے بھی یہ عبارت نہ ملے تو ایک اور نکتہ ان الفاظ میں بیان فرمایا:۔بعض دفعہ 227 کا 247 ہوتا ہے۔“ پڑھنے والے اس بارے میں خود ہی کوئی نتیجہ نکال سکتے ہیں۔کیا ان سوالات کو سنجیدہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ تک سوالات کرنے والوں کا اعتماد مکمل طور پر رخصت ہو چکا تھا۔ایک بار پھر بحث اس نکتہ کی طرف واپس آگئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں جب حقیقی مسلمان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو اس سے کیا مطلب لیا جائے۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف آئینہ کمالات اسلام کا ایک حوالہ پیش نظر تھا جس کا حوالہ محضر نامہ میں بھی دیا گیا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے جب یہ سوال کیا اور کہا کہ جب اس قسم کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے یہ تاثر پڑتا ہے کہ جو غیر احمدی ہیں وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اصل میں مسلمان نہیں ہیں۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ اس کا جواب محضر نامہ میں آچکا ہے لیکن چونکہ سوال دہرایا گیا