دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 354 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 354

354 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سرکار انگریز گو منکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے۔ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے اور ترویج کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہے۔ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی اور احیائے سنن سید المرسلین ہے۔سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔پھر ہم سرکار انگریز پر کس سبب دو سے جہاد کریں اور خلاف اصولِ مذہب طرفین کا خون بلا سبب گرادیں۔“ (76) تو سید احمد شہید صاحب کے نزدیک اس دور میں انگریز حکومت کے خلاف جہاد کرنا خلاف اصول مذہب اسلام تھا۔اسی دور میں مولوی اسماعیل شہید صاحب نے سکھوں سے جہاد کرنے کے لیے لوگوں کو ترغیب دی لشکر ترتیب دیئے۔انہوں نے یہ واضح اعلان کیا کہ ”جو مسلمان سرکار انگریز کی امان میں رہتے ہیں ہندوستان میں جہاد نہیں کر سکتے۔“ (77) اور جب انگریزوں کی حکومت ہندوستان میں مستحکم ہو گئی تو علماء نے اس کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی چنانچہ جماعت احمدیہ کے ایک اشد مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تحریر کرتے ہیں:۔بناء علیہ اہل اسلام ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے۔“(78) پھر تحریر کرتے ہیں :۔اس امن و آزادی عام و حسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہلحدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں اور جہاں کہیں وہ رہیں یا جائیں (عرب میں خواہ روم میں خواہ اور کہیں کسی اور ریاست کا محکوم و رعایا ہوتا نہیں چاہتے۔“ (79)