دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 351
351 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری۔۔۔وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيْتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنَّا۔۔۔( النور : 34) یعنی اپنی لونڈیوں کو اگر وہ شادی کرنا چاہیں روک کر مخفی) بدکاری پر مجبور نہ کرو۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں پر یہ بحث نہیں تھی کہ " الیعنی " کا کیا مطلب ہے بلکہ بحث یہ تھی کہ ذرية البغایا کے محاورے کا کیا مطلب ہے لیکن یا تو یہ بات مفتی صاحب کے علم میں نہیں یا پھر وہ عمداً پوری تصویر پیش نہیں کر رہے تھے۔حقیقت یہ قرآنِ کریم کے الفاظ کی لغت مفردات امام راغب میں اس لفظ کا مطلب لکھا ہے:۔کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں۔خواہ تجاوز کر سکے یا نہ “ اور پھر لکھا ہے ” بغی “ دو قسم پر ہے محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کر کے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کر کے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کر کے تطوع بجا لانا اور مذموم یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل یا شبہات میں واقع ہونا۔“ اور پھر لکھا ہے کہ ”بغی“ کے معنی تکبر کرنے کے بھی آتے ہیں کیونکہ اس میں بھی اپنی حد سے تجاوز کرنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔سوره توبہ کی آیت 47 اور 48 میں يبغونكم الفتنة ، ابتغوا الفتنة كے الفاظ فتنہ چاہنے کے معانی میں استعمال ہوئے ہیں اور سورۃ الشوریٰ کی آیت 43 میں يبغون فى الارض بغير الحق کے الفاظ ”زمین میں ناحق سر کشی سے کام لینے کے “ معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اور یہی الفاظ سورۃ یونس کی آیت 24 میں انہی معانی میں استعمال ہوئے ہیں اور اسی آیت کریمہ میں انما بغيكم على انفسکم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ یقینا تمہاری بغاوت اپنے نفسوں کے ہی خلاف ہے۔سورۃ الحج کی آیت میں ثم بغی علیه کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اس کا مطلب ہے ” پھر اس کے خلاف سرکشی کی جائے۔“ اس کے علاوہ قرآنِ کریم وو