دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 344
344 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مقامِ مدح میں وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہیے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجیئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخیر زمانی صحیح ہو سکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی۔عرض پرداز ہوں کہ اطلاق خاتم اس بات کو مقتضی ہے کہ تمام انبیاء کا سلسلہ نبوت آپ پر ختم ہوتا ہے جیسا انبیاء گزشتہ کا وصف نبوت میں حسب تقریر مذکور اس لفظ میں آپ کی طرف محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ کا اس وصف میں کسی کی طرف محتاج ہونا انبیاء گزشتہ ہوں یا کوئی اور اسی طرح اگر فرض کیجئے آپ کے زمانے میں بھی اس زمین میں یا کسی اور زمین میں یا آسمان میں کوئی اور نبی ہو تو وہ بھی اس وصف نبوت میں آپ ہی کا محتاج ہو گا اور اس کا سلسلہ نبوت بہر طور پر آپ پر مختم ہوگا۔بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔“ ( تحذیر الناس، مصنفہ مولانا قاسم نانوتوی صاحب ، قاری پریس دیوبند ص3) اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب نے تحریر کیا ہے کہ ” حديث لا وَحْيٌ بَعْدَ مَوْتِى بے اصل ہے ہاں لا نَبِيَّ بَعْدِی آیا ہے۔اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لائے گا۔“ اقتراب الساعة ، مطبع مفید عام آگرہ ، مصنفہ نواب صدیق حسن خان ص162) ان کتابوں میں بھی جو لکھی ہی جماعت کی مخالفت میں گئی تھیں اور جن میں جماعت احمدیہ کے خلاف جی بھر کر زہر اگلا گیا تھا، اس بات کا برملا اظہار کیا گیا تھا کہ امت مسلمہ کے سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد یہ عقیدہ رکھتی رہی ہے کہ گو کہ آنحضرت علی الم کے بعد شرعی نبی نہیں آ سکتا لیکن آنحضرت صلی فلم کی اتباع